World
امریکہ کا اسرائیل کو شام میں حملے پر انتباہ
امریکہ نے ترکی کی سرحد کے قریب شام کے ایک فضائی اڈے پر اسرائیلی بمباری کے بعد اسرائیل کو خبردار کیا ہے۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان اس واقعے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو شام میں ترکی کی سرحد کے قریب واقع ایک فضائی اڈے پر کیے گئے حملے کے معاملے پر سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حالیہ دنوں میں شام کے اندر فضائی حملوں اور عسکری کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس پر ترکی اور اسرائیل کے درمیان لفظی جنگ اور خطے میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے کے نازک امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ شام کی حکومت نے اسرائیل کی طرف سے فضائی اڈے پر حملے کے لیے پیش کیے جانے والے ان توجیہات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں مبینہ طور پر ترک فوجی دستوں کے اکھٹے ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ دمشق کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں ملکی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ دوسری جانب، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو مبینہ طور پر شام کی موجودہ کشیدگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے روس کے طریقہ کار کو اپنانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ترکی کے ساتھ محاذ آرائی سے بچا جا سکے۔ اس صورتحال میں پاکستان سمیت گیارہ مسلم ممالک نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور شام پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ بند کروایا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان سفارتی کوششوں نے فوری رنگ نہ دکھایا تو خطے میں ایک نئی بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔