Technology
جی ٹی اے سکس لیکس: ٹیک ٹو کی جانب سے مائیکروسافٹ اور ڈسکارڈ کو سبپوینا جاری
مقبول ترین ویڈیو گیم گرینڈ تھیف آٹو سکس کے پبلشر ٹیک ٹو نے گیم سے جڑے مواد کے غیر قانونی لیک ہونے کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔ کمپنی نے مائیکروسافٹ اور ڈسکارڈ کو سبپوینا جاری کر دیے ہیں تاکہ اس ناخوشگوار واقعے کے ذمہ داروں کا پتہ لگایا جا سکے۔
دنیا بھر کے گیمنگ کے شوقین افراد کی توجہ کا مرکز بننے والی انتہائی متوقع ویڈیو گیم 'گرینڈ تھیف آٹو سکس' (GTA 6) کے حوالے سے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ گیم کے پبلشر 'ٹیک ٹو' (Take-Two) نے حال ہی میں سامنے آنے والے سیکیورٹی لیکس اور گیم پلے کی غیر قانونی ویڈیوز کے پس منظر میں سخت قانونی قدم اٹھاتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ کمپنی نے مائیکروسافٹ اور ڈسکارڈ جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کو باضابطہ طور پر سبپوینا (عدالتی طلبی کے نوٹس) جاری کر دیے ہیں تاکہ اس تمام نجی اور حساس مواد کو لیک کرنے والے اصل ذمہ داروں یا گروپس کی شناخت کی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق، پچھلے کچھ عرصے میں جی ٹی اے سکس کا بہت سا مواد، بشمول نقشے اور ابتدائی گیم پلے کی جھلکیاں، مختلف سوشل میڈیا اور کمیونیکیشن پلیٹ فارمز پر وائرل ہو گیا تھا۔ ان لیکس نے نہ صرف راک اسٹار گیمز اور ٹیک ٹو کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ پوری انڈسٹری میں اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے کہ اتنے بڑے پروجیکٹس کی سیکیورٹی کو کیسے مجروح کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو گیمنگ کی دنیا میں ایک بڑا حفاظتی اور مالیاتی دھچکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کی باضابطہ رونمائی تک راز داری کو انتہائی اہمیت دیتی ہیں۔
ٹیک ٹو کی جانب سے جاری کردہ ان سبپویناز کا مقصد ڈسکارڈ اور مائیکروسافٹ کے سسٹمز سے ان اکاؤنٹس اور صارفین کا ڈیٹا حاصل کرنا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر یہ راز افشا کیے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ قانونی کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ مستقبل میں اس قسم کے بڑے سائبر خطرات اور گیمنگ انڈسٹری میں ہونے والے لیکس کے خلاف ایک اہم قانونی مثال بن سکتی ہے۔ راک اسٹار اور ٹیک ٹو کے پرستار اب اس بات کے منتظر ہیں کہ کمپنی اس بڑے چیلنج سے کیسے نمٹتی ہے اور آیا اس کا گیم کی حتمی ریلیز کی تاریخ پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں۔