World
فلسطینی علاقوں پر فرانس اور برطانیہ کا مشترکہ اقدام، سابق سفارت کاروں کا مطالبہ
برطانیہ اور فرانس کے سابق سفارت کاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ممالک فلسطینی علاقوں میں امن اور دو ریاستی حل کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔ سفارت کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری سفارتی کوششیں کی جائیں۔
برطانیہ اور فرانس کے کئی سابق سفارت کاروں نے اپنے ممالک کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں جاری کشیدگی اور بحران کو ختم کرنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔ سابق سفارت کاروں کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی اور انسانی صورتحال انتہائی نازک اور تشویشناک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں یورپی طاقتیں خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اپنے مشترکہ موقف میں ان سابق عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ محض زبانی جمع خرچ سے خطے کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس اور برطانیہ کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد کی رسائی اور سیاسی عمل کی بحالی کے لیے دباؤ بڑھانا چاہیے۔ سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ دو ریاستی حل ہی اس طویل تنازع کا واحد اور منصفانہ حل ہے جس کے لیے دونوں ممالک کو متحرک ہونا ہوگا۔
اس اپیل میں یورپی سفارت کاروں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر سنجیدہ سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے جس کے اثرات پورے خطے اور بین الاقوامی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے دونوں حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی روایتی پالیسیوں سے ہٹ کر جرأت مندانہ فیصلے کریں اور خطے میں انصاف اور پائیدار امن کی بحالی کے لیے قائدانہ کردار ادا کریں۔