Pakistan
معاشی بحران اور بڑھتی خودکشیاں: منعم ظفر خان کا اہم بیان
منعم ظفر خان نے حالیہ بیان میں تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کی وجہ سے لوگ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کراچی: جماعت اسلامی یا دیگر سیاسی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے رہنما منعم ظفر خان نے اپنے ایک بیان میں اس تلخ حقیقت کا برملا اظہار کیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی اور شدید مالی مشکلات کے باعث عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے، اور لوگ تنگ دستی سے تنگ آ کر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک موجودہ تاریخ کے بدترین معاشی دور سے گزر رہا ہے جہاں غریب اور متوسط طبقہ بنیادی ضروریاتِ زندگی بالخصوص روٹی، کپڑا اور مکان کے حصول کے لیے بھی ترس رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے نچلے طبقے کی کمر توڑ دی ہے اور نوکریوں کے فقدان نے نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
منعم ظفر خان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں اور آئے روز بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کی وجہ سے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں اور روزگار کے مواقع تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب ایک محنت کش اپنے بچوں کا پیٹ پالنے سے قاصر ہو جاتا ہے اور قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے، تو وہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب کر اس قسم کے انتہائی اور ہولناک اقدامات اٹھاتا ہے جو پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ یہ صرف انفرادی زندگیاں ختم ہونے کا المیہ نہیں ہے بلکہ یہ ریاست اور معاشرے کی اجتماعی ناظمی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے، جس کی ذمہ داری حکومتی مشینری پر عائد ہوتی ہے۔
بیان کے آخر میں منعم ظفر خان نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور فوری طور پر ملک میں ہنگامی معاشی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ واپس لیا جائے تاکہ غریب عوام کو دو وقت کی روٹی عزت کے ساتھ مل سکے۔ اس کے علاوہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے امدادی مراکز قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو اس معاشی دلدل سے بچایا جا سکے اور معاشرے میں امید کی کرن بحال ہو سکے۔