LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین نیٹو فورسز کو روبوٹ وارفیئر کی تربیت دے رہا ہے

News Image
یوکرین جنگی میدان میں روسی فوج کے خلاف روبوٹس کے استعمال اور ان کی خامیوں کے بارے میں نیٹو کے دستوں کو تربیت دے رہا ہے۔ یہ تجربات مغربی عسکری تربیت کاروں کے لیے جدید جنگی حکمت عملی سمجھنے میں اہم ثابت ہو رہے ہیں۔
یوکرین اس وقت جنگی میدان میں ایک منفرد اور اہم کردار ادا کر رہا ہے جہاں وہ اپنے فوجیوں کی حفاظت اور دشمن کے خلاف حملوں کے لیے گراؤنڈ روبوٹس کے ایک بڑے بیڑے کا استعمال کر رہا ہے۔ ان جنگی حالات کے درمیان، یوکرینی فوجی اپنے مغربی اور نیٹو تربیتی ساتھیوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ روبوٹس میدانِ جنگ میں درحقیقت کیسے کام کرتے ہیں اور ان کی عملی حدود یا خامیاں کہاں پر واقع ہیں۔ یہ باہمی تعاون دونوں فریقوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ رپورٹس کے مطابق، جدید جنگی تنازعات میں روبوٹکس کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ یوکرین کی افواج نے میدانِ جنگ میں بارودی سرنگیں ہٹانے، گولہ بارود پہنچانے اور محاذ جنگ پر دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے زمینی روبوٹس کو بڑی کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ تاہم، یوکرینی فوجیوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہر ٹیکنالوجی میدانِ جنگ کی سختیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور بعض اوقات کھردری زمین، شدید موسم یا تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے یہ روبوٹس ناکام بھی ہو جاتے ہیں۔ نیٹو کے تربیتی مشن اس تبادلہ خیال سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں کیونکہ مغربی ممالک کے پاس روایتی جنگی ساز و سامان تو موجود ہے لیکن حالیہ دور کی ہائبرڈ اور روبوٹک جنگ کا براہ راست تجربہ محدود ہے۔ یوکرینی فوجیوں کی طرف سے دی گئی یہ فڈبیک نیٹو کے دفاعی ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد دے رہی ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں زمینی ڈرونز اور روبوٹس کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ان کی کمزوریوں کو کیسے دور کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کا یہ تجربہ دنیا بھر کی افواج کے لیے ایک نیا باب کھول رہا ہے۔ جنگ کے دوران حاصل ہونے والے اس تکنیکی علم کی روشنی میں مستقبل کے دفاعی سسٹمز کو زیادہ پائیدار، موثر اور خودکار بنایا جائے گا، جس سے میدانِ جنگ میں انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کرنے میں مدد ملے گی۔