LIVE
Loading Breaking News...

وزن گھٹانے والا ہارمون جگر کی حفاظت کے لیے بھی کارآمد

News Image
میک ماسٹر یونیورسٹی کے محققین نے انکشاف کیا ہے کہ بھوک کم کرنے اور وزن گھٹانے والا ہارمون جگر کو سوزش اور داغوں سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہارمون دماغ اور جگر کے درمیان ایک نئے اعصابی راستے کو فعال کرتا ہے جو جگر کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔
ماہرین نے ایک ایسی حیرت انگیز طبی دریافت کی ہے جو وزن گھٹانے کے ساتھ ساتھ انسانی جگر کے لیے بھی انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک ایسا ہارمون جو پہلے ہی بھوک کو قابو میں رکھنے اور وزن میں کمی لانے کے حوالے سے جانا جاتا تھا، اب ایک اور اہم اور حیران کن خصوصیت کا حامل پایا گیا ہے۔ یہ ہارمون جگر کو خطرناک سوزش اور اندرونی زخموں یا داغوں سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے طبی دنیا میں نئی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔میک ماسٹر یونیورسٹی کے ماہرین اور محققین کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 'جی ڈی ایف پندرہ' (GDF15) نامی ہارمون دماغ سے جگر تک جانے والے ایک ایسے راستے کو متحرک کرتا ہے جس کے بارے میں پہلے سائنس دانوں کو علم نہیں تھا۔ یہ نیا دریافت شدہ برین ٹو لیور پاتھ وے جگر کے خلیات کی حفاظت کرتا ہے اور اسے مختلف قسم کے نقصان دہ اثرات سے بچاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ حفاظتی عمل وزن میں نمایاں کمی واقع ہوئے بغیر بھی اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے، جو کہ اس کا ایک اور حیرت انگیز پہلو ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر کی بیماریاں اور سوزش آج کے دور میں دنیا بھر میں ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں، بالخصوص نان الکوہلک فیٹی لیور ڈیزیز جیسی حالتیں لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس نئی تحقیق کے نتیجے میں مستقبل میں جگر کے امراض کے علاج کے لیے نئی ادویات اور تھراپی کی تیاری میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ محققین اب اس بات کا مزید جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح اس قدرتی ہارمون کو طبی مقاصد کے لیے استعمال کر کے انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے اور جگر کی مختلف پیچیدہ بیماریوں کا مؤثر علاج دریافت کیا جا سکتا ہے۔