World
افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت اور تازہ ترین صورتحال
افغانستان میں افغان طالبان کی غیر قانونی اور سخت گیر حکمرانی کے خلاف مختلف اپوزیشن گروہوں کی جانب سے مسلح مزاحمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں افغان طالبان کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہیں۔
کابل میں افغان طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے ملک کے اندر مختلف حصوں میں سیاسی اور عسکری چیلنجز کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کی سخت گیر اور غیر قانونی حکمرانی کے خلاف اب اپوزیشن گروہوں کی جانب سے مسلح مزاحمت میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مختلف ذرائع ابلاغ اور رپورٹس کے مطابق افغانستان کے اندرونی حصوں میں سرگرم مسلح مزاحمتی گروہوں نے طالبان کے خلاف اپنی کارروائیوں کو وسعت دی ہے جس سے موجودہ حکمران اتھارٹی کے لیے سیکورٹی کے نئے چیلنجز پیدا ہو گئے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان یونائٹڈ فرنٹ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے حامی عسکریت پسندوں نے قندھار سمیت کئی اہم علاقوں میں طالبان فورسز کے خلاف حملے کیے ہیں۔ ان حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے اندر طالبان مخالف عسکری سرگرمیاں اب زیادہ منظم شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ اگرچہ طالبان حکومت ملک بھر میں اپنی رٹ قائم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم تازہ ترین جھڑپیں اور حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی افغان طالبان کی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مقیم افغان باشندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے طالبان کی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر احتجاج کیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مسلح مزاحمت فی الحال محدود پیمانے پر ہے، لیکن اگر اسے اندرونی اور بیرونی سطح پر سیاسی یا عسکری معاونت ملتی ہے تو یہ افغان طالبان کے لیے ایک بڑا دردِ سر بن سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ افغان طالبان ان نئی اندرونی شورشوں سے کس طرح نمٹتے ہیں اور کیا خطے کے دیگر ممالک اس صورتحال پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔