Technology
مائیکرون کے سی ای او سنجے مہروترا کا مصنوعی ذہانت اور میموری ڈیمانڈ پر بیان
مائیکرون ٹیکنالوجی کے چیئرمین اور سی ای او سنجے مہروترا کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے میموری انڈسٹری کی روایتی معیشت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اے آئی کی وجہ سے چپ اور میموری کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
مائیکرون ٹیکنالوجی کے چیئرمین، صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سنجے مہروترا نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) نے میموری کے کاروبار کی معیشت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ تاریخ طور پر یہ سیکٹر ہمیشہ قلت اور اضافی رسد کے چکروں کے درمیان ہچکولے کھاتا رہا ہے، تاہم اب مصنوعی ذہانت کے عروج کے بعد صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے۔ سنجے مہروترا کے مطابق موجودہ دور میں اے آئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے میموری اور سیمی کنڈکٹرز کی ضرورت میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے پوری صنعت کے کام کرنے کے انداز کو تبدیل کر دیا ہے۔
کمپنی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ روایتی طور پر میموری انڈسٹری کو شدید اتار چڑھاؤ کا سامنا رہتا تھا جہاں طلب کم ہونے پر قیمتیں گر جاتی تھیں اور طلب بڑھنے پر قلت پیدا ہو جاتی تھی۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے نفاذ نے اس مارکیٹ ڈائنامکس کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا ہے۔ جدید ڈیٹا سینٹرز، لارج لینگویج ماڈلز اور اے آئی پر مبنی ایپلی کیشنز کے لیے انتہائی طاقتور اور زیادہ گنجائش والے میموری سسٹمز کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مائیکرون جیسی کمپنیوں کو اب بالکل نئے چیلنجز اور مواقع کا سامنا ہے۔
ٹیکنالوجی کے اس نئے دور میں مائیکرون انڈسٹری کے اندر ایک اہم ترین کھلاڑی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سنجے مہروترا کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ آنے والے وقتوں میں مصنوعی ذہانت کا پھیلاؤ مزید تیز ہوگا، اور اس کے ساتھ ہی جدید ہارڈویئر اور میموری چپس کی طلب میں بھی اضافہ جاری رہے گا۔ صنعت کے ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ اے آئی کا یہ انقلاب محض عارضی نہیں ہے بلکہ اس نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی صنعت کی بنیادوں کو مضبوطی سے بدل دیا ہے، جس سے مستقبل میں اس سیکٹر کی ترقی کے نئے راہیں کھلیں گے۔