World
امریکا اور ایران کشیدگی: محدود جنگ کی حکمت عملی
تجزیہ کاروں کے مطابق تہران امریکا پر دباو برقرار رکھنے اور همہ گیر جنگ سے بچنے کے لیے محدود تصادم کی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے۔ یہ صورتحال خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ لے سکتی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تنازع کو اتنی احتیاط سے کنٹرول کر سکتا ہے کہ واشنگٹن پر مسلسل دباؤ بھی برقرار رہے اور ایک ہمہ گیر یا تباہ کن جنگ سے بھی بچا جا सके۔ تہران کی قیادت کے نزدیک یہ محدود سطح کی کشیدگی خطے میں اس کے اسٹریٹجک مقاصد کے حصول کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت تہران اپنے اتحادیوں کے ذریعے مختلف محاذوں پر دباؤ بڑھاتا ہے لیکن اس حد تک نہیں کہ براہ راست اور بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو جائے۔ دوسری طرف امریکی پالیسی ساز بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑی جنگ کے معاشی اور عسکری نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس وجہ سے دونوں فریقین ایک طویل عرصے سے ایک ایسے توازن پر کاربند ہیں جسے کنٹرولڈ تنازعہ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ امن کے معاہدے یا سفارتی مذاکرات بظاہر دونوں ملکوں کے درمیان تعطل کا شکار نظر آتے ہیں، لیکن تہران کے اندرونی حلقوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ موجودہ کشیدگی کی کیفیت امریکی انتظامیہ کو زیادہ دیر تک ایران کے مطالبات پر غور کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ تاہم اس نازک توازن کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ کسی بھی غلط حساب کتاب یا اچانک واقعے کی صورت میں یہ محدود تصادم ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ خطے کے سیاسی اور دفاعی مبصرین اس صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔