LIVE
Loading Breaking News...

میٹا سمارٹ گلاسز پرائیویسی بحران اور برطانیہ میں پابندیاں

News Image
برطانیہ کے مختلف پبز، ریستورانوں اور عدالتی احاطوں میں میٹا کے کیمرے والے چشموں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ٹکڑے ٹکڑے اقدامات اس گہرے پرائیویسی بحران کو حل کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
برطانیہ بھر میں پبز، ریستورانوں، تھیٹرز، نجی کلبوں اور عدالتوں جیسے مقامات پر میٹا کے نئے کیمرہ والے چشموں پر پابندیوں کا سلسلہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عوامی حلقوں اور سیکیورٹی ماہرین کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور کچھ حلقوں میں تو انہیں انتہائی ناپسندیدہ ناموں سے بھی پکارا جا رہا ہے۔ ان چشموں میں نصب خفیہ کیمرے اور ریکارڈنگ کی خصوصیات عوام کی ذاتی زندگی اور پرائیویسی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے اداروں نے اپنی سطح پر ان کے استعمال کو ممنوع قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کے جزوی اقدامات یا مقامات کی بنیاد پر لگائی جانے والی پابندیاں اس وسیع تر پرائیویسی بحران کا موثر حل ثابت ہو سکتی ہیں؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ پب یا کسی خاص مقام پر داخلے کے وقت چشمے اتار دینے کا حکم دینا دراصل بنیادی مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسی مصنوعات مارکیٹ میں لے آ رہی ہیں جو صارف کی ذاتی سہولت کے نام پر اردگرد موجود بے گناہ افراد کی رازداری کو پامال کرتی ہیں۔ جب تک حکومتیں اور ریگولیٹری ادارے اس معاملے پر سخت قوانین اور ضابطہ اخلاق مرتب نہیں کرتے، اس قسم کے عارضی اور ٹکڑے ٹکڑے حل ناکافی رہیں گے۔ میٹا کی جانب سے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن عوامی سطح پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد یہ ظاہر کرتا ہے کہ صارفین اب ڈیجیٹل نگرانی کے خلاف بیدار ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں اس قسم کے سمارٹ وئیر ایبلز کی کامیابی یا ناکامی اس بات پر منحصر ہوگی کہ ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے پرائیویسی کے تحفظ کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اگر اس مسئلے کا بروقت حل تلاش نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف ان مصنوعات کے بائیکاٹ کا باعث بنے گا بلکہ مستقبل کی ہائی ٹیک ایجادات کے راستے میں بھی قانونی رکاوٹیں کھڑی کر سکتا ہے۔