LIVE
Loading Breaking News...

سائنسدانوں نے 30 فیمٹو سیکنڈ میں مخفی الیکٹرانک حالت کا مشاہدہ کر لیا

News Image
سائنسدانوں نے روشنی کی مدد سے ایک مواد کے اندر بننے والی مخفی حالت کا مشاہدہ کیا ہے جو محض 30 فیمٹو سیکنڈز میں تشکیل پاتی ہے۔ اس حیرت انگیز عمل سے مواد کے اندرونی بانڈز کی تنظیم نو کے نئے راز منکشف ہوئے ہیں۔
سائنسی دنیا میں ایک انتہائی اہم اور شاندار پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے پہلی بار کسی مواد کے اندر روشنی کی مدد سے پیدا ہونے والی ایک مخفی الیکٹرانک حالت کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ حیرت انگیز عمل صرف 30 فیمٹو سیکنڈز کے قلیل ترین وقت میں روننما ہوا، جس نے مٹیریل سائنس کے کئی پرانے اسرار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس دریافت سے مستقبل میں ایسی جدید الیکٹرانک ڈیوائسز بنانے کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں جو انتہائی تیز رفتار ہوں گی۔ تجربے کے دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ جب مٹی مخصوص روشنی کی شعاعوں سے ٹکرایا تو وہ فوری طور پر ایک ایسی عارضی الیکٹرانک حالت میں داخل ہو گیا جہاں اس کے اندرونی ایٹمی بانڈز نے ایک مخصوص اور دہرائے جانے والے انداز میں اپنی تنظیم نو شروع کر دی۔ اس عمل کی رفتار اتنی تیز تھی کہ اس کا مشاہدہ کرنا اس سے پہلے ممکن نہیں تھا، لیکن جدید ترین تکنیکوں کی بدولت محققین اس چونکا دینے والے عمل کو براہ راست ریکارڈ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ مشاہدہ فزکس کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ مادے کی اندرونی ساخت میں تبدیلی ایک نسبتاً سست رفتار عمل ہے، لیکن اس نئی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ الیکٹرانک سطح پر تبدیلیاں روشنی کی رفتار کے برابر انتہائی کم وقت میں بھی روننما ہو سکتی ہیں۔ اس سے کوانٹم کمپیوٹنگ اور الیکٹرانکس کی دنیا میں انقلابی تبدیلیاں آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس سائنسی کامیابی کے بعد اب محققین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس تکنیک کو دیگر مواد پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ طریقہ کار دوسرے مواد پر بھی کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں ایسے سیمی کنڈکٹرز بنائے جا سکیں گے جن کی رفتار موجودہ دور کے کمپیوٹرز اور سسٹمز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوگی۔ یہ تحقیق دنیا بھر کے سائنسدانوں کے لیے نئی راہیں کھول رہی ہے۔