World
ٹرمپ کا متنازع بیان: آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے دیا
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ فی الحال کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے جب انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسٹریٹ آف ہرمز یا آبنائے ہرمز کو 'امریکی علاقہ' کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور بین الاقوامی سطح پر توانائی کی ترسیل کے اس اہم بحری راستے کی سیکیورٹی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کے اس دعوے پر عالمی سطح پر مختلف حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ بحری راستہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے سختی سے تردید کی ہے کہ ایران کے ساتھ اس وقت کسی بھی قسم کے خفیہ یا اعلانیہ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران انتظامیہ تاحال کسی بھی 'درست معاہدے' کے لیے تیار نہیں ہے، اسی لیے واشنگٹن کی طرف سے سخت مؤقف اپنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، ایرانی عسکری حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی جارحیت کی گئی تو اس کا 'تباہ کن' جواب دیا جائے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اسی تنازعات کی زد میں امریکہ کا قریبی اتحادی عمان بھی آیا ہے، جس کے بارے میں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر عمان نے ایران کے ساتھ ڈیل کے معاملے میں کوئی رکاوٹ ڈالی تو امریکہ سخت قدم اٹھا سکتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، خطے میں اس قسم کے بیانات سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس مقام پر اس قسم کے دعوے دنیا بھر میں معاشی اور سیاسی بحران کا باعث بن سکتے ہیں۔