World
بنگلہ دیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ
بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدے میں شمولیت حاصل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ त्रिवार्षीय عسکری تعاون سے خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
بنگلہ دیش کی طرف سے خطے کے ایک اہم دفاعی اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے سنجیدہ مشاورت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بنگلہ دیشی قیادت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس مجوزہ اتحاد کا مقصد رکن ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا، دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرنا اور علاقائی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے مابین اس مثلثی محور کو خطے کی سلامتی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
خطے کے جیو پولیٹیکل حالات میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بعد اس دفاعی معاہدے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بنگلہ دیش اس اتحاد کا حصہ بن جاتا ہے تو اس سے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔ اس سے قبل بھی انم تمام ممالک کے مابین دوطرفہ دفاعی تعلقات ہمیشہ سے مستحکم رہے ہیں، تاہم اس وسیع تر اتحاد کی تشکیل سے خطے میں طاقت کا توازن ایک نئے رُخ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس عسکری اتحاد کے حوالے سے مختلف ردعمل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ علاقائی طاقتیں اس اتحاد کو اپنے لیے چیلنج تصور کر رہی ہیں، جب کہ دوسری طرف حلیف ممالک اسے خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت قرار دے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی اس پیش رفت کو خارجہ پالیسی کے تناظر میں ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے، جس سے اس کے روایتی علاقائی حریفوں کے ساتھ تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید باضابطہ اعلانات متوقع ہیں۔