Pakistan
راولپنڈی اپارٹمنٹ قتل کیس: خاتون کی ہاتھ بندھی لاش برآمد، شوہر اور ملازم حراست میں
راولپنڈی کے علاقے لال کُرتی میں عسکری اپارٹمنٹس سے ایک پینتالیس سالہ خاتون کی ہاتھ بندھی لاش برآمد ہوئی ہے۔ پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو حراست میں لے کر قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
راولپنڈی کے علاقے لال کُرتی میں واقع عسکری اپارٹمنٹس سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پینتالیس سالہ حنا جاوید نامی خاتون کی لاش باتھ روم سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق خاتون کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے جبکہ ان کے گلے میں تار لپٹی ہوئی تھی جو شاور کے راڈ سے بندھی تھی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ عمر رسیدہ سسر سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر سول لائنز پولیس اسٹیشن میں دفعہ 302 اور 34 کے تحت درج کی گئی ہے۔
مقدمے کے متن کے مطابق، مقتولہ کے بھائی فاہد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بہن کو شوہر فیصل اصغر امام، سسر اصغر علی فیاز اور ملازم نے مل کر قتل کیا ہے۔ مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ انہیں جمعرات کی شام سسر کی جانب سے ہنگامی کال موصول ہوئی تھی جس کے بعد وہ فوری طور پر اپارٹمنٹ پہنچے۔ وہاں پہنچنے پر انہوں نے دیکھا کہ حنا جاوید کی لاش باتھ روم میں پڑی تھی، منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا اور گلے میں تار لگی ہوئی تھی۔ ابتدائی طبی اور پولیس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتولہ کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے اور گلے پر گلا گھونٹنے کا نشان پایا گیا جبکہ منہ اور ہونٹ کے قریب بھی چوٹیں تھیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پنجاب فورنزک سائنس ایجنسی (PFSA) کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر تمام ضروری شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے شوہر فیصل اور گھریلو ملازم کو قتل کے الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور دونوں سے تفتیش جاری ہے۔ اس کے علاوہ مقتولہ کے اٹھাত্তر سالہ سسر کو بھی تفتیشی دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران کی نگرانی میں تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
خاتون کے بھائی نے اپنے بیان میں مزید دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بہن کی شادی نومبر دو ہزار پچیس میں ہوئی تھی اور ملزم فیصل نے اس سے قبل بھی اپنی پہلی بیوی پر تشدد کیا تھا جس نے بعد میں طلاق لے لی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کی قانونی بنیادوں پر جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور فورنزک شواہد کی روشنی میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔