World
شام میں اسرائیلی فضائی حملہ: امریکی سفیر کا انکشاف
ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بارک کا کہنا ہے کہ شام میں ابو الظہور ایئربیس پر اسرائیلی حملے کی بنیاد بننے والی خفیہ اطلاعات درست نہیں تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی ترکیہ کو اس حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔
ترکیہ میں متعین امریکی سفیر ٹام بارک نے ہفتے کے روز ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ شام کے شمالی علاقے میں واقع ایک فوجی ایئربیس پر اسرائیلی حملے کے پیچھے جو خفیہ اطلاعات استعمال کی گئی تھیں، وہ سراسر غلط تھیں۔ ٹام بارک، جو شام اور عراق کے لیے خصوصی ایلچی کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں، نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ حملہ کیوں کیا گیا، لیکن وہ اپنے پاس موجود معلومات اور دیے گئے جوابات ضرور شیئر کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو یہ غلط انٹیلی جنس ملی تھی کہ ترکیہ شام میں اس ایئربیس پر اپنے فوجی اثاثے منتقل کر رہا ہے، جس کے بعد اسرائیل نے یہ معلومات واشنگٹن کے ساتھ بھی شیئر کیں۔ امریکی سفیر نے مزید بتایا کہ اس اطلاع کے ملنے کے بعد جب انہوں نے اپنے متعلقہ انٹیلی جنس اداروں سے مشاورت کی، تو انہیں واضح جواب ملا کہ یہ دعویٰ بالکل سچ نہیں ہے۔ ان کے بقول، اسرائیلی فوج، موساد اور وزیراعظم کے دفتر کے درمیان مواصلاتی خلا یا غلط فہمی کا نتیجہ ہو سکتا ہے کہ یہ قدم اٹھایا گیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس فضائی حملے کے بارے میں نہ تو امریکہ اور نہ ہی ترکیہ کو پہلے سے کوئی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔ ٹام بارک نے ترک فوج کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک مضبوط اور بہادر فورس قرار دیا جو اپنے فرائض سے بخوبی آگاہ ہے۔ دوسری جانب، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو کے دفتر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ترک فوجی اس ایئربیس پر آباد ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور جنوب کی طرف فوجی تنصیبات تعینات کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے مشرقی ادلب صوبے میں واقع غیر فعال ابو الظہور ملٹری ایئربیس کو نشانہ بنایا تھا۔ شامی حکام کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے اس ایئربیس پر آٹھ حملے کیے جن میں رن وے اور ہینگر کے اندر موجود ایک غیر فعال ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔