Pakistan
اسد عمر کا انکشاف: تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس جاگیرداروں سے کہیں زیادہ
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے تنخواہ دار طبقے نے چھ سو ارب روپے سے زائد کا ٹیکس ادا کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں بڑے زمینداروں اور جاگیرداروں کی جانب سے ادا کیا جانے والا ٹیکس دس ارب روپے سے بھی کم ہے۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے ملکی ٹیکس نظام کے حوالے سے انتہائی اہم اور چشم کشا اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ملک کے تنخواہ دار طبقے نے مجموعی طور پر چھ سو ارب روپے کے قریب ٹیکس ادا کیا ہے، جو کہ ایک بہت بڑی رقم ہے۔ اس کے برعکس، ملک کے بااثر اور مالدار زمینداروں یا جاگیرداروں کی طرف سے قومی خزانے میں جمع کروائی جانے والی ٹیکس کی رقم دس ارب روپے سے بھی کم رہی ہے۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ٹیکس کا موجودہ نظام غریب اور متوسط طبقے پر تو بھاری بوجھ ڈالتا ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقہ اس سے بچ نکلا ہے۔
ماہرین معاشیات اور عام عوام کی جانب سے بھی اس تفاوت پر طویل عرصے سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں زراعت کا شعبہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور جی ڈی پی میں اس کا بڑا حصہ بھی ہے، لیکن اس کے باوجود زرعی شعبے سے وابستہ بڑے زمیندار قومی خزانے میں اس تناسب سے ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ دوسری طرف، تنخواہ دار طبقہ جو کہ اپنی آمدنی چھپانے کا موقع نہیں رکھتا، اس کی تنخواہوں سے سورس پر ہی ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا بن گیا ہے۔ اسد عمر کے ان تازہ بیانات نے ایک بار پھر ملک میں ٹیکس اصلاحات اور مالیاتی ناانصافیوں کے موضوع کو گرم کر دیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت شدید مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے اور اگر ٹیکس کا دائرہ کار درست معنوں میں نہیں پھیلایا گیا تو ملکی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ حکومت اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ زراعت اور دیگر غیر دستخط شدہ شعبوں سے ٹیکس وصول کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کریں تاکہ عام تنخواہ دار طبقے کا استحصال روکا جا سکے۔ اسد عمر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مہنگائی عروج پر ہے اور تنخواہ دار طبقہ مہنگائی اور ٹیکسوں کے دوہرے بوجھ تلے دبتا چلا جا رہا ہے۔