World
برطانیہ سپریم کورٹ فلسطین ایکشن پابندی اپیل
برطانیہ کی سب سے بڑی عدالت نے حکومت کی طرف سے فلسطین ایکشن پر عائد کردہ پابندی کے خلاف اپیل کی اجازت دے دی ہے۔ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت گروپ کی ممانعت کے حوالے سے انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
برطانیہ کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی سپریم کورٹ نے فلسطین نامی کارکن گروپ 'فلسطین ایکشن' کو حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندی کے خلاف اپیل دائر کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔ یہ قانونی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب گروپ نے حکومتی احکامات کو چیلنج کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، جنہیں انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین کے تحت نافذ کیا گیا تھا۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اس گروپ کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سے انسانی حقوق اور سول سوسائties کی تنظیموں میں شدید تشویش پائی جاتی تھی۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں اظہارِ رائے کی آزادی اور احتجاج کے حق کے حوالے سے ایک اہم نظیر قائم کر سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ججز اس معاملے کی قانونی باریکیوں کا گہرائی سے جائزہ لیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا حکومتی اقدام آئینی دائرہ کار میں آتا ہے یا نہیں۔ دوسری جانب، فلسطین ایکشن کے حامیوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے اپنے مؤقف کی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں اپنے اوپر عائد کردہ الزامات کا بھرپور دفاع کریں گے۔ عدالت کی طرف سے کیس کی سماعت کی تاریخ کا اعلان آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے، جس پر دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اس مقدمے کے فیصلے کے بعد برطانیہ میں احتجاجی تحریکوں اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے قوانین پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔