World
شام ہوائی اڈہ بمباری: اسرائیل اور ترکی کی وارننگز
شام کے ایک اہم ہوائی اڈے پر بمباری کے واقعے کے بعد اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور دونوں ممالک نے سخت انتباہات جاری کیے ہیں۔ دریں اثنا، اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مسلم ممالک نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔
شام کے ایک فوجی ہوائی اڈے پر ہونے والی حالیہ بمباری کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس کے پیش نظر اسرائیل اور ترکی دونوں کی طرف سے وارننگز کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تازہ واقعے نے مشرق وسطیٰ کے پہلے سے نازک سکیورٹی ماحول کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے اور علاقائی طاقتیں آمنے سامنے آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا یہ بھی ماننا ہے کہ شام کے اس ہوائی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملے کے پیچھے موجود انٹیلی جنس معلومات غلط فہمیوں پر مبنی ہو سکتی ہیں، جس سے معاملے کی پیچیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب، شام کی حکومت نے ترکی کی مبینہ فوجی نقل و حرکت کو جواز بنا کر کیے جانے والے اسرائیلی حملے کے تمام دلائل کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ شامی حکام کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں ملکی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں جن کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ ادھر پاکستان سمیت گیارہ مسلم ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور اس جارحیت کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
اس تمام صورتحال کے دوران، اسرائیلی قیادت بالخصوص وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو کی جانب سے ترکی کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو سنبھالنے کے لیے مبینہ طور پر روسی طرزِ عمل اور حکمت عملی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں روس کے اثر و رسوخ اور سفارتی حرکیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیل ترکی کے ساتھ تعلقات کے تناؤ کو کم کرنے یا اپنے اسٹریٹجک اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کشیدگی کے خطے کے دیگر ممالک پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔