World
انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ، بورنیو میں فوج کی اضافی نفری تعینات
انڈونیشیا نے بورنیو کے جنگلات میں بے قابو آگ پر قابو پانے کے لیے اضافی فوجی دستے روانہ کر دیے ہیں۔ حکومت کے مطابق رواں سال کے پہلے سات مہینوں میں دو لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ آتشزدگی کی نذر ہو چکا ہے۔
انڈونیشیا کی حکومت نے ملک کے جزیرے بورنیو میں جنگلات میں لگی شدید اور بے قابو آگ پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز اور امدادی کارکنوں کی اضافی نفری میدان میں اتار دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اور قریبی آبادیوں کو محفوظ بنانا ہے۔ انڈونیشیائی حکام کے مطابق جنوری سے لے کر جولائی کے مہینوں کے دوران ملک بھر میں دو لاکھ ہیکٹر سے زائد اراضی جل کر خاکستر ہو چکی ہے، جس سے نہ صرف قیمتی جنگلات بلکہ ماحول کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور طویل خشک سالی کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پانا فائر فائٹنگ محکمے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حکومت نے اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور مقامی اداروں کو الرٹ جاری کر رکھا ہے جبکہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بھی آگ پر پانی گرانے کے آپریشنز جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس آگ کو جلد نہ روکا گیا تو یہ خطے کے ماحولیاتی نظام اور فضائی کیفیت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ کا مسئلہ پرانا ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور خشک موسم نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے پیش نظر اب عسکری اور سول ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں چلا رہے ہیں۔