LIVE
Loading Breaking News...

امریکی پابندیاں اور کیوبا کا بحران صحت

News Image
امریکی پابندیوں میں سختی کی وجہ سے کیوبا کا صحت کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ اسپتالوں میں ادویات اور ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے طبی خدمات معطل ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیوں کے نتیجے میں کیوبا کا صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ملک پر اقتصادی گھیرا تنگ کیے جانے کے بعد کیوبا کے طبی شعبے کو ایندھن، ادویات اور بنیادی طبی آلات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے ملک بھر کے اسپتالوں اور طبی مراکز کے لیے اپنے معمول کے امور کو جاری رکھنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق صحت کے اس بحران نے کیوبا کے بنیادی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کیوبا کی حکومت اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں نے ان کے لیے بین الاقوامی منڈی سے زندگی بچانے والی ادویات اور ضروری سامان کی خریداری کو ناممکن یا انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ ایندھن کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایمبولینس سروسز اور اسپتالوں کے جنریٹر بھی متاثر ہو رہے ہیں، جس سے ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں بڑی رکاوٹیں آ رہی ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کا براہ راست خمیازہ عام مریضوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے نہ صرف کیوبا کے اندر طبی خدمات کے معیار کو گرا دیا ہے بلکہ طبی عملے کو بھی انتہائی نامساعد حالات میں کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کا کہنا ہے کہ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں مریضوں کی جان بچانا روز بروز ایک ناممکن مشن بنتا جا رہا ہے۔ اگر امریکی پابندیوں کے حوالے سے جلد کوئی نرمی یا بین الاقوامی سطح پر کوئی فوری امدادی قدم نہ اٹھایا گیا، تو کیوبا کا یہ دیرینہ اور سراہا جانے والا صحت کا نظام مکمل طور پر بیٹھ سکتا ہے جس کے انسانی سطح پر انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔