World
گھانا میں منشیات کا بحران اور شہری نگرانی کے گروہوں کا کردار
گھانا میں بڑھتے ہوئے اوپیائڈ بحران سے نمٹنے کے لیے عام شہریوں نے خود سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے۔ یہ نگران گروہ منشیات کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں کیونکہ ریاستی ادارے اکیلے اس لعنت پر قابو پانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
مغربی افریقی ملک گھانا اس وقت ایک شدید منشیات کے بحران کی لپیٹ میں ہے، جہاں بالخصوص اوپیائڈز اور دیگر نشہ آور ادویات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے نہ صرف نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ معاشرتی امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محدود صلاحیتوں کے پیش نظر، اب عام شہریوں نے خود ہی اس مسئلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مقامی رضاکار اور نگران گروہ رات کی تاریکی میں سڑکوں پر گشت کرتے ہیں تاکہ منشیات کے تاجروں اور اسمگلروں کی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ ان شہریوں کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر سخت قدم نہ اٹھایا گیا تو آنے والی نسلیں مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گی۔
ان خود ساختہ نگران گروہوں کا مقصد کسی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر خود انصاف کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کا بنیادی ہدف منشیات کے اڈوں کی نشاندہی کرنا اور پولیس کو بروقت اطلاع دینا ہے۔ تاہم، اکثر حالات اتنے خراب ہوتے ہیں کہ انہیں خود ہی مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ گلی محلوں میں گشت کرنے والے یہ افراد کئی بار خطرناک مجرموں کا سامنا کرتے ہیں، جن کے پاس مہلک ہتھیار بھی ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ وہ اپنے علاقوں کے نوجوانوں کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے دن رات ایک کر رہے ہیں اور نشے کے عادی افراد کو بحالی مراکز تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، حکام اور ماہرین اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک طرف جہاں ان شہریوں کی دلیری اور معاشرے کے ساتھ اخلاقی وابستگی کو سراہا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف قانون کو خود ہاتھ میں لینے کے ممکنہ خطرناک نتائج سے بھی خبردار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل المدتی بنیادوں پر منشیات کے خاتمے کے لیے ریاست کو خود موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر سڑکوں پر گشت نہ کرنا پڑے۔ اس کے باوجود، گھانا کی موجودہ سڑکوں پر یہ شہری رضاکار اس وقت امید کی ایک ایسی کرن بنے ہوئے ہیں جو اپنے ملک کو بچانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کر رہے ہیں۔