LIVE
Loading Breaking News...

چین کی جانب سے بیرونی سرمایہ کاری کے قوانین میں بڑی ترامیم

News Image
چین اپنے بیرون ملک سرمایہ کاری کے ضوابط میں جامع ترامیم کرنے جا رہا ہے جس کا مقصد ملکی سرمایہ کاروں کے حقوق کا بہتر تحفظ کرنا ہے۔ ان نئے قواعد میں کمپنیوں کے ساتھ ساتھ تنظیموں اور انفرادی سرمایہ کاروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔
بیجنگ: چین کی حکومت نے بیرون ملک کی جانے والی سرمایہ کاری کے ضوابط میں نمایاں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر سرمایہ کاری کرنے والے ملکی اداروں اور افراد کے حقوق کا مزید مؤثر تحفظ کیا جا سکے۔ مجوزہ ترامیم کا مقصد نہ صرف سرمایہ کاری کے عمل کو شفاف بنانا ہے بلکہ نجی اور سرکاری دونوں شعبوں کے مفادات کو محفوظ بنانا بھی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ نئے نظرثانی شدہ ضوابط روایتی کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ دیگر تنظیموں اور انفرادی سرمایہ کاروں پر بھی لاگو ہوں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اس حوالے سے جو قوانین نافذ کیے گئے تھے وہ سال 2018 میں عمل میں آئے تھے، تاہم بدلتے ہوئے عالمی معاشی حالات اور چیلنجز کے پیش نظر اب ان قوانین میں وسعت لانے کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے ان قوانین میں ترمیم سے بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والوں کو قانونی تحفظ کا ایک مضبوط ڈھانچہ ملے گا، جس سے ان کے معاشی خطرات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ نئی ہدایات کے تحت سرمایہ کاروں کو زیادہ شفافیت، بہتر رہنمائی اور بین الاقوامی منڈیوں میں درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومتی معاونت فراہم کی جائے گی۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان ضوابط کے مکمل نفاذ سے چینی سرمایہ کار دنیا بھر میں زیادہ پراعتماد طریقے سے کاروباری سرگرمیاں انجام دے سکیں گے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ بیرون ملک جانے والا سرمایہ محفوظ ہاتھوں میں ہو اور اس سے ملکی معیشت کو بھی طویل المدتی بنیادوں پر فائدہ پہنچ سکے۔