LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں چیف فنانشل افسران کی تبدیلی کی شرح میں اضافہ

News Image
امریکہ کی سرفہرست پبلک کمپنیوں میں سی ایف او کی تبدیلی کی شرح وبائی امراض کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ کرسٹ کولڈر ایسوسی ایٹس کی رپورٹ کے مطابق کارپوریٹ سیکورز میں عدم استحکام اور دباؤ اس کی بڑی وجہ ہیں۔
امریکہ کی سب سے بڑی پبلک کمپنیوں میں چیف فنانشل افسران (سی ایف او) کی تبدیلی کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح اٹھارہ اعشاریہ تین فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ وبائی امراض کے دور کے بعد سے اب تک کی سب سے بلند ترین سطح ہے، جو کارپوریٹ دنیا میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔ کرسٹ کولڈر ایسوسی ایٹس کی جاری کردہ سال کے وسط کی وولیٹیلٹی رپورٹ کے مطابق، کارپوریٹ سیکٹر میں قائدانہ تبدیلیوں کا یہ رجحان تیزی سے جڑ پکڑ رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بازاروں میں اتار چڑھاو، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی اقتصادی غیر یقینی کی وجہ سے کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اپنے مالیاتی سربراہان سے فوری اور بہتر نتائج کے طلبگار ہیں۔ اسی دباؤ کے تحت بہت سے سی ایف او یا تو خود استعفیٰ دے رہے ہیں یا کمپنیوں کو مجبورا نئے چہروں کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مالیاتی شعبے میں اس طرح کی بڑی تبدیلیاں کمپنیوں کی طویل مدتی حکمت عملیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کار اور تجارتی تجزیہ کار اس صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ کسی بھی کمپنی کے لیے سی ایف او کا منصب انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اگر معاشی حالات مزید سخت ہوتے ہیں تو اس شرح میں مزید اضافے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو کہ امریکی معیشت اور کارپوریٹ گورننس کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔