Business
ملازمتوں کا موجودہ نظام اور بھرتی کے مسائل پر تفصیلی رپورٹ
موجودہ دور میں ملازمت کا حصول اور امیدواروں کی تلاش دونوں ہی انتہائی مشکل عمل بن چکے ہیں جس سے فریقین میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ پوڈ کاسٹ دی ایسپرٹ کے حالیہ ایپی سوڈ میں اس بحران کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
ملازمت کے حصول کا عمل دنیا بھر میں ایک پیچیدہ اور دباؤ والا مرحلہ بن چکا ہے جس سے نہ صرف نوکری کے متلاشی افراد بلکہ کمپنیاں اور ریکروٹرز بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ جمعہ اکیس اگست دو ہزار چھبیس کے روز نشر ہونے والے پوڈ کاسٹ دی ایسپرٹ کے ایپی سوڈ میں اسی اہم موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ آج کے اس دور میں صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ امیدوار سینکڑوں کی تعداد میں اپنی سی ویز یعنی رزومے ارسال کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں خاطر خواہ نتائج یا مثبت جوابات حاصل نہیں ہوتے۔ بعض اوقات تو جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی اسکریننگ کے طریقہ کار بھی امیدواروں کے لیے رکاوٹ بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے باصلاحیت افراد بھی ابتدائی مراحل میں ہی مسترد ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف کمپنیوں کے ایچ آر ڈیپارٹمنٹس اور ریکروٹرز کا یہ مؤقف ہے کہ انہیں مناسب امیدوار تلاش کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ موصول ہونے والی ہزاروں درخواستوں میں سے بیشتر معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ اس صورتحال نے پورے بھرتی کے نظام کو ایک نہ ختم ہونے والے تعطل کا شکار کر دیا ہے جہاں دونوں فریق ایک دوسرے سے شاکی نظر آتے ہیں۔ اس بحران کی ایک بڑی وجہ جاب مارکیٹ میں بڑھتا ہوا مسابقتی رجحان اور بھرتی کے روایتی طریقوں کا فرسودہ ہونا بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کمپنیاں اور امیدوار باہمی رابطے کے نئے اور شفاف ذرائع اختیار نہیں کرتے، اس وقت تک اس نظام کی خرابی میں بہتری کی کوئی خاص امید نہیں کی جا سکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پورے عمل کو مزید لچکدار بنایا جائے تاکہ نوکری کے متلاشی افراد کو اتنے شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ادارے بھی اپنی مطلوبہ صلاحیتوں کے حامل افراد کو باآسان تلاش کر سکیں۔