Pakistan
وزیراعظم شہباز شریف کا پمز میں سی ٹی اینجیوگرافی مشین پر نوٹس
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں سی ٹی اینجیوگرافی مشین کے غیر فعال ہونے کا نوٹس لے لیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کے دوران یہ مسئلہ سامنے آنے پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں سی ٹی اینجیوگرافی (سی ٹی اے) مشین کے غیر فعال ہونے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا تاہم اس سہولت کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ان کا مطلوبہ ٹیسٹ مکمل نہیں کیا جا سکا۔ وزیراعظم نے اس پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس امر کا جائزہ لے گی کہ مشین کیوں خراب تھی اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کو جمعہ کے روز علی الصبح بغیر کسی پیشگی اطلاع، ریفرل یا باقاعدہ مریض کے طور پر رجسٹریشن کے ہسپتال لایا گیا تھا، جس کی وجہ سے تمام متعلقہ محکمے ہنگامی صورتحال سے باخبر نہیں ہو سکے۔ پمز کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کارڈیک سینٹر کی مشین خراب یا غیر فعال تھی، جبکہ ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں ایک مکمل طور پر فعال سی ٹی اے مشین مارچ 2022 سے موجود تھی۔ تاہم، علاج کرنے والے عملے کو اس بات کا بروقت علم نہیں ہو سکا اور عمران خان ٹیسٹ کیے بغیر واپس اڈیالہ جیل روانہ کر دیے گئے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی میں سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی (اے ایف آئی سی)، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) ڈاکٹر عظمت حیات (پمز) اور سی ٹی اے ٹیکنیشین عمر فاروق شامل ہیں۔ یہ کمیٹی جامع تحقیقات کرے گی کہ آیا پمز میں 2022 سے سی ٹی اے کرنے کی تکنیکی صلاحیت موجود تھی یا نہیں، اور ہسپتال کے اندر ریفرل اور کوآرڈینیشن کے نظام میں کیا خامیاں رہیں۔
کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ آیا کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے مریضوں کو مبینہ طور پر جان بوجھ کر نجی ہسپتالوں یا مراکز کو ریفر کیا جاتا رہا ہے اور پمز کے پبلک ہسپتال سے پرائیویٹ مراکز کو کتنا بزنس منتقل ہوا۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ حقائق کی مکمل چھان بین کرکے جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کرے تاکہ اس غفلت یا انتظامی کوتاہی میں ملوث ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔