LIVE
Loading Breaking News...

ایف ایم سی جی سیکٹر میں اے آئی اور فراڈ ڈیٹیکشن کا رجحان

News Image
بھارت میں خوراک اور اشیاء کی کڑی جانچ کے باعث مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑی کمپنیاں سپلائی چین میں دھوکہ دہی روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہی ہیں۔
بھارت میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) اور اسٹیٹ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے کی جانے والی سخت جانچ پڑتال نے ملک کی ایف ایم سی جی (تیز رفتار صارفین کے سامان) کی صنعت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی سختی اور پھیلتی ہوئی سپلائی چین میں فراڈ کے خطرات کے پیش نظر، بڑی کمپنیاں اب مصنوعی ذہانت (AI) کا رخ کر رہی ہیں۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے فراڈ کا پتہ لگانے والے سسٹمز کے لیے تقریباً بارہ سو کروڑ روپے کا ایک نیا اور منافع بخش تجارتی موقع پیدا کر دیا ہے۔ ہندوستان یونی لیور، آئی ٹی سی، نستلے انڈیا اور ٹاٹا کنزیومر جیسی بڑی کمپنیاں اپنی سپلائی چین میں شفافیت لانے کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنا رہی ہیں۔ روایتی طریقوں سے فراڈ یا جعلی مصنوعات کی نشاندہی کرنا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے، خاص طور پر جب پروڈکٹس ملک کے کونے کونے میں سپلائی کی جارہی ہوں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی الگورتھم نہ صرف ڈیٹا کا فوری تجزیہ کرتے ہیں بلکہ ریئل ٹائم میں کسی بھی مشکوک سرگرمی یا معیار میں کمی کو بھی فوری طور پر پکڑ لیتے ہیں، جس سے کمپنیوں کو بروقت فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ریگولیٹری اداروں کی جانب سے جاری کردہ سخت قوانین نے کمپنیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے نظام کو جدید خطوط پر استوار کریں۔ صارفین کے حقوق اور صحت کے تحفظ کے لیے کی جانے والی یہ سختی دراصل ان کمپنیوں کے لیے بھی سودمند ثابت ہو رہی ہے جو معیاری مصنوعات فراہم کرتی ہیں۔ اے آئی سسٹمز کی مدد سے نہ صرف جعل سازی کا قلع قمع کیا جا رہا ہے بلکہ سپلائی چین کے ہر مرحلے پر مانیٹرنگ کو بھی فول پروف بنایا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس سیکٹر میں مزید سرمایہ کاری کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ کمپنیاں کسی بھی قسم کے رسک سے بچنے کے لیے جدید ترین تکنیکی حل تلاش کر رہی ہیں۔