LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ویزا پابندیاں: بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں کمی

News Image
امریکہ میں امیگریشن اور تعلیمی ویزا سے متعلق سخت نئی پالیسیوں کے نفاذ کے بعد بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین تعلیم نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے امریکی جامعات کی عالمی ساکھ اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ میں ویزا اور امیگریشن سے متعلق سخت پالیسیوں کے نفاذ کے بعد بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہ صورتحال ملک کی نامور یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے جہاں دنیا بھر سے طلبا اعلیٰ تعلیم کے لیے آتے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، نئے تعلیمی سال کے دوران غیر ملکی طلبہ کی تعداد میں ہونے والی اس گراوٹ نے تعلیمی ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکی ویزا کے حصول کے طریقہ کار کو مزید پیچیدہ اور طویل بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سےامیدوار طلبا دیگرممالک جیسے کہ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس پالیسی تبدیلی کا مقصد داخلی سلامتی کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے، تاہم تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس سے امریکہ کی علمی برتری اور بین الاقوامی طلبہ پر انحصار کرنے والی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ امریکہ کی کئی بڑی جامعات نے اس امر پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ نہ صرف کیمپس میں ثقافتی تنوع کا باعث بنتے ہیں بلکہ وہ امریکی معیشت میں اربوں ڈالر کا حصہ بھی ڈالتے ہیں۔ ٹیوشن فیس اور روزمرہ کے اخراجات کی مد میں یہ طلبہ مقامی معیشت کا ایک اہم ستون ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ویزا کے قوانین میں نرمی یا بہتری نہ لائی گئی تو امریکی اعلیٰ تعلیم کا شعبہ اپنی عالمی مسابقت کھو سکتا ہے، جس کے طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔