Business
امریکہ جی ڈی پی شرح نمو مہنگائی معیشت کاروبار
امریکہ میں دوسری سہ ماہی کے دوران مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو سست ہو کر 1.5 فیصد رہ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے نے ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔
واشنگٹن (نیکسرہ نیوز اردو) امریکہ کی معیشت میں سست روی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران امریکہ کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 1.5 فیصد تک محدود رہی، جو کہ پہلی سہ ماہی میں ریکارڈ کی گئی 2.1 فیصد نمو کے مقابلے میں کم ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیرونی تجارت کا بڑھتا ہوا خسارہ شامل ہیں، جس نے مجموعی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔
حالیہ معاشی رپورٹس کے مطابق، امریکی صارفین کی قوت خرید میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ اشیائے خوردونوش، توانائی اور دیگر روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے فیصلوں کا مقصد مہنگائی کو قابو میں لانا تھا، تاہم اس کا منفی اثر صنعتی پیداوار اور سرمایہ کاری پر بھی پڑا ہے۔ تجارتی محاذ پر بھی چیلنجز برقرار ہیں جہاں درآمدات اور برآمدات کے درمیان عدم توازن کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے، جس نے معاشی ترقی کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔
دوسری سہ ماہی کے یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مالیاتی منڈیوں میں پہلے ہی بے یقینی کی فضا پائی جاتی ہے۔ سرمایہ کار اور تجارتی حلقے آئندہ کے معاشی لائحہ عمل کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ معیشت کے سست ہونے سے روزگار کے مواقع اور کارپوریٹ پرافٹ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومتی اور معاشی پالیسی ساز اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ معیشت کو مزید مندی سے بچانے کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں اور شرح نمو کو دوبارہ مثبت ڈگر پر ڈالا جا سکے۔