Technology
چین کو جنگ کی صورت میں فوجی ڈرونز کی قلت کا خطرہ
جرنل آف سسٹم سیمولیشن میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین کی صنعتی پیداوار اچانک بڑی جنگ کی صورت میں فوجی ڈرونز کی صرف ساٹھ فیصد طلب کو پورا کر پائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیداواری خلاء دفاعی تیاریوں کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ژانگ جیہائی کی قیادت میں کی جانے والی ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ چین کا وسیع و عریض صنعتی نظام بھی اچانک کسی بڑی عسکری تصادم یا جنگ کی صورت میں فوجی ڈرونز کی طلب کو مکمل طور پر پورا کرنے سے قاصر رہ سکتا ہے۔ جرنل آف سسٹم سیمولیشن میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، موجودہ صنعتی صلاحیت صرف اس پوزیشن میں ہے کہ وہ جنگی حالات میں فوج کی کل ضرورت کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ ہی فراہم کر سکے۔ اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ باقی چالیس فیصد کا بڑا خلائی فرق دفاعی تیاریوں اور جنگی حکمت عملی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتا ہے۔ جدید دور کی جنگوں میں ڈرونز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور ان کیپیسٹیز کی بروقت فراہمی کسی بھی تنازعے کے نتیجے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے ابتدائی اور انتہائی اہم مراحل میں جب ڈرونز کا استعمال عروج پر ہوگا، اس وقت پیداوار کی یہ سست روی یا ناکافی صلاحیت ملک کی دفاعی پوزیشن کو کمزور کر سکتی ہے۔ اس تحقیق نے چینی دفاعی منصوبہ سازوں کو بیدار کر دیا ہے تاکہ وہ اپنی صنعتی سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو ہنگامی بنیادوں پر وسعت دینے کے طریقوں پر غور کریں۔ اگرچہ چین روایتی اور جدید ٹیکنالوجی کی پیداوار میں دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتا ہے، تاہم جنگی پیمانے پر جس تیزی سے ہتھیاروں بالخصوص ڈرونز کی کھپت ہوتی ہے، اس کا تخمینہ لگانا اور اس کے مطابق تیاری کرنا ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔ اس مطالعاتی رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ دفاعی صنعتوں کو نہ صرف پیداواری لاگت اور معیار پر توجہ دینی چاہیے بلکہ ہنگامی حالات میں پیداوار کو کئی گنا بڑھانے کی صلاحیت کو بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ دشمن کے مقابلے میں کسی بھی قسم کی قلت یا کمزوری کا شکار نہ ہونا پڑے۔