Technology
مص مصنوعی ذہانت کی غلطیاں اور بچوں کی تربیت
ساؤتھ کیرولینا کے اساتذہ نے بچوں کو مصنوعی ذہانت کے نقصانات سے بچانے کے لیے ایک منفرد تدریسی طریقہ کار متعارف کروایا ہے۔ اس طریقے کے تحت طلباء کو اے آئی چیٹ بوٹس سے دنیا کا نقشہ بنانے کا کہا جاتا ہے تاکہ ان کی غلطیوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس آج کل دنیا بھر کے اساتذہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، لیکن نئے تعلیمی سال کی تیاری کے لیے ساؤتھ کیرولینا کے شہر چارلسٹن میں جمع ہونے والے اساتذہ کے ایک گروپ نے اس کا ایک بہترین حل تلاش کر لیا ہے۔ اساتذہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طلباء کو یہ سکھانا انتہائی ضروری ہے کہ وہ اے آئی پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ جب بچے ہر کام کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کرنے لگتے ہیں، تو ان کی اپنی تنقیدی سوچ اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک انوکھا تدریسی طریقہ اپنایا گیا ہے جس میں بچوں کو اے آئی سے دنیا کا ایک عام نقشہ بنانے کا کہا جاتا ہے۔ جب چیٹ بوٹس اس قسم کے پیچیدہ بصری کام میں غلطیاں کرتے ہیں یا نامکمل اور مسخ شدہ نتائج پیش کرتے ہیں، تو طلباء کو خود بخود یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہر معاملے میں درست نہیں ہوتی۔ اس عملی مشق کا مقصد بچوں کے اندر یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی فراہم کردہ معلومات کو من و عن تسلیم کرنے کے بجائے ان پر سوال اٹھائیں اور اپنی تحقیق کو ترجیح دیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کو ٹیکنالوجی کا باشعور استعمال سکھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ وہ اے آئی کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔