Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 574 پوائنٹس کا اضافہ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے اختتام پر زبردست تیزی دیکھی گئی اور بازار حصص میں مثبت رجحان رہا۔ مسلسل تین روز کی مندی کے بعد بازار نے واپسی کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو ریلیف فراہم کیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے اختتام پر ایک بار پھر زبردست تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے اور بازار حصص میں 574 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ چند سیشنز کے دوران مارکیٹ میں مسلسل مندی کا تسلسل جاری تھا جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جارہی تھی، تاہم تازہ ترین سیشن میں ہونے والی اس شاندار واپسی نے مارکیٹ کا رخ ہی بدل دیا ہے۔ کاروباری ماہرین کے مطابق اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیشن کے دوران خریداروں نے گہری دلچسپی دکھائی جس سے انڈیکس کو سہارا ملا۔
اس ہفتے کے دوران پی ایس ایکس میں ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا جہاں ابتدائی سیشنز میں مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار رہی اور تین سیشنز میں انڈیکس کو مسلسل نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ تاہم جمعہ کے روز مارکیٹ بند ہونے سے قبل سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی خریداری اور مضبوط پوزیشننگ کے باعث بازار مثبت زون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ہفتہ وار مارکیٹ کے جائزے کے مطابق، کے ایس ای 100 انڈیکس نے مثبت زون میں اختتام کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ بنیادی معاشی اعشاریوں میں بہتری کی امیدیں اب بھی مارکیٹ کی سمت کا تعین کررہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں اس طرح کے اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہیں، خاص طور پر جب ملکی اور بین الاقوامی اقتصادی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہو۔ کاروباری حلقوں کی جانب سے اس بحالی کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں مارکیٹ کی سمت کا انحصار حکومت کی معاشی پالیسیوں، تجارتی اعداد و شمار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحانات پر ہوگا۔
مجموعی طور پر، ہفتے کے آخری روز مارکیٹ کا مثبت رجحان پرامید فضا قائم کرنے کا سبب بنا ہے۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اب آئندہ ہفتے کے آغاز کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس مثبت مومینٹم کو برقرار رکھا جا سکے۔ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر معاشی استحکام کا یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مزید بہتری دیکھنے کو ملے گی جو کہ ملک کی مجموعی معیشت کے لیے بھی انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔