World
غزہ میں تدفین کے مقامات ختم، لاشیں نکالنے پر مجبور لواحقین
اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں شہداء کی لاشیں دفنانے کے لیے مناسب جگہ ختم ہو چکی ہے۔ لواحقین کو مجبوران عارضی قبرستانوں سے اپنے پیاروں کی میتیں نکالنے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور بمباری کے باعث انسانی بحران سنگین ترین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ انسانی حقوق کی رپورٹوں کے مطابق، غزہ کی پٹی میں اب شہداء اور جاں بحق ہونے والے افراد کو دفنانے کے لیے زمین یا قبرستانوں میں مناسب جگہ باقی نہیں بچی ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جنہیں مجبوران گلی محلوں، اسکولوں اور دیگر عارضی مقامات پر اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا تھا۔ اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ان عارضی مقامات پر بھی گنجائش ختم ہو چکی ہے، جس سے انتظامیہ اور مقامی آبادی کے لیے مزید تدفین ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔موجودہ بحران کے دوران متعدد مقامات پر لواحقین کو مجبوراً اپنے پیاروں کی میتیں عارضی قبروں اور مٹی کے ڈھیروں سے نکال کر دوسری جگہوں پر منتقل کرنے یا نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ طبی عملے اور ریسکیو ٹیموں کو بھی لاشوں کی بحفاظت سنبھال اور تدفین کے حوالے سے شدید چیلنجز درپیش ہیں۔ قبرستانوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور جگہ کی شدید قلت نے غزہ کے شہریوں کے دکھوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جو پہلے ہی محاصرے اور مسلسل بمباری کے عذاب سے گزر رہے ہیں۔بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے غزہ میں اس انسانی المیے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یوں ہی جاری رہی تو مردوں کی تدفین اور حفظان صحت کے اصولوں کے حوالے سے مزید بڑے طبی و سماجی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ عالمی برادری سے بارہا مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ کم از کم شہداء کے احترام اور ان کی باعزت تدفین کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق بدستور انتہائی تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔