Politics
عمران خان کی اسپتال منتقلی، پی ٹی آئی کا توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف نے سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے اچانک سرکاری اسپتال منتقل کیے جانے پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پارٹی نے اس معاملے پر عدالت سے رجوع کرتے ہوئے توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل سے ایک ریاستی اسپتال منتقل کیے جانے اور بعد ازاں واپس جیل بھیجے جانے کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے توہین عدالت کی قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل میں عدالتی احکامات اور ضابطہ فوجداری کی مبینہ خلاف ورزی کی گئی ہے، جس پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم کو طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل سے سخت سیکیورٹی حصار میں ایک قریبی سرکاری اسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا۔ معائنے کے فوراً بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ تاہم، اس پیش رفت کے بعد تحریک انصاف کی قانونی ٹیم نے ہنگامی مشاورت کی اور اسے عدالتی احکامات کی روگردانی قرار دیا۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ اس حوالے سے ان کے وکلا اور خاندان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور اس پورے معاملے میں شفافیت کا فقدان تھا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں مؤقف اختیار کیا جائے گا کہ جیل حکام کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کے لیے عدالتی اجازت یا کم از کم متعلقہ قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری تھا۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت اور سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور وہ اس معاملے کو عدالتِ عظمیٰ اور دیگر فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔
حکومتی حلقوں کی طرف سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم انتظامیہ کا اصرار ہے کہ یہ اقدام صرف طبی معائنے اور ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل درآمد کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تازہ قانونی تنازع سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ پی ٹی آئی اس معاملے کو سیاسی اور قانونی محاذ پر لڑنے کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دیتی ہے۔