Pakistan
پاکستان میں 29 بوتل بند پانی کے برانڈز مضر صحت قرار دیے گئے
پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ نے ملک بھر میں فروخت ہونے والے بوتل بند پانی کے برانڈز کا معیار جانچنے کے لیے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب 29 بوتل بند پانی کے برانڈز انسانی صحت کے لیے مضر اور غیر محفوظ پائے گئے ہیں۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) پاکستان میں شہریوں کو فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی کے معیار پر ایک بار پھر سوالیہ نشان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ حکارتی ذرائع اور متعلقہ تحقیقی اداروں کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ملک بھر میں فروخت ہونے والے 29 بوتل بند پانی کے برانڈز کو انسانی استعمال کے لیے قطعی طور پر غیر محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ تشویشناک انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوام کی بڑی تعداد صاف پانی کے حصول کے لیے مہنگے داموں منرل واٹر اور بوتل بند پانی خریدنے پر مجبور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں نے مارکیٹ سے مختلف برانڈز کے نمونے حاصل کر کے ان کی لیبارٹری میں تفصیلی جانچ پڑتال کی۔ اس سائنسی تجزیے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ 29 برانڈز کا پانی حفظان صحت کے بین الاقوامی اور مقامی اصولوں پر پورا نہیں اترتا۔ پانی کے ان نمونوں میں خطرناک حد تک آلودگی، نقصان دہ بیکٹیریا اور مضر صحت کیمیکلز کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جو انسانی جسم میں داخل ہو کر مختلف پیچیدہ بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
ماہرین صحت نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غیر معیاری اور آلودہ پانی کا استعمال ہیضہ، پیٹ کی بیماریاں، اور جگر کے امراض سمیت کئی دیگر جان لیوا امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ شہریوں بالخصوص بچوں اور بزرگوں کی صحت کو لاحق اس سنگین خطرے کے پیش نظر عوام میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور حلقہ ارب اختیار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، متعلقہ اداروں اور حکومتی محکموں نے غیر معیاری اور عوام کی زندگیوں سے کھیلنے والے ان برانڈز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا تہیہ کر لیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ان تمام برانڈز کی سپلائی مارکیٹ سے معطل کریں اور ان کے پلانٹس کو سیل کر کے ذمہ داران کے خلاف کڑے قانونی اقدامات عمل میں لائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کی غفلت سے بچا جا سکے۔