LIVE
Loading Breaking News...

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ: برطرف سیکیورٹی گارڈ نوکری پر بحال

News Image
لاہور ہائی کورٹ نے لاہور جنرل ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ کو اے سی پائپ چوری کے الزام سے بری کرتے ہوئے نوکری پر بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے انتظامیہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔
لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں لاہور جنرل ہسپتال کے سیکیورٹی گارڈ کو جو کہ اے سی پائپ چوری کے الزام میں نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا، دوبارہ بحال کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے دوران تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ شواہد کو ناکافی قرار دیا۔ سیکیورٹی گارڈ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ہسپتال کے احاطے سے ائیر کنڈیشنر کے پائپ چرانے میں ملوث ہے، جس کی بنیاد پر محکمہ جاتی کارروائی کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ برطرفی کے بعد متاثرہ گارڈ نے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا۔ عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اسے کسی بھی شفاف انکوائری کے بغیر اور ذاتی رنجش کی بنیاد پر نوکری سے نکالا گیا ہے، جبکہ اس کا چوری کے اس واقعے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ عدالت عالیہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے برطرفی کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سیکیورٹی گارڈ کو فوری طور پر اس کے عہدے پر بحাল کیا جائے۔ قانونی ماہرین نے عدالت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی ہوگا اور بلاجواز کارروائیوں کا راستہ روکا جا سکے گا۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ گارڈ کے اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے انصاف کی فراہمی پر عدالت کا شکریہ ادا کیا ہے۔