Technology
ایرک شمٹ اور سرگئی برن کے درمیان ٹیکس مہم پر اختلافات
گوگل کے سابق چیف ایگزیکٹو ایرک شمٹ اور شریک بانی سرگئی برن کے درمیان کیلیفورنیا کے ارب پتی ٹیکس کے خلاف ایک کروڑ ڈالر کی مہم کے استعمال پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات جو کہ گوگل کی بنیاد رکھنے میں پیش پیش تھے، اب ایک اہم سیاسی اور معاشی معاملے پر آمنے سامنے ہیں۔
گوگل کے سابق چیف ایگزیکٹو ایرک شمٹ اور کمپنی کے شریک بانی سرگئی برن کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اختلافات کیلیفورنیا میں ارب پتی افراد پر عائد ہونے والے ٹیکس کے خلاف چلائی جانے والی ایک سو ملین ڈالر کی مہم کے فنڈز کے استعمال کے طریقہ کار پر پیدا ہوئے ہیں۔ دونوں معروف شخصیات ماضی میں گوگل کو دنیا کی سب سے بڑی اور قیمتی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل کرنے کے لیے شانہ بشانہ کام کرتی رہی ہیں، مگر اب وہ اس نئی سیاسی و معاشی لڑائی میں مختلف سمتوں میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس بات پر ہے کہ اس بھاری بھرکم رقم کو کس طرح خرچ کیا جائے تاکہ کیلیفورنیا کے متنازع ٹیکس قوانین کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ ایرک شمٹ اور سرگئی برن دونوں ہی خطے کی ٹیک انڈسٹری اور سیاسی حلقوں میں گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، لیکن فنڈز کی تقسیم اور مہم کی حکمت عملی کے حوالے سے ان کے خیالات میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ ٹیک انڈسٹری کے مبصرین اس صورتحال کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ گوگل کے ان دو سابقہ اہم رہنماؤں کا کسی بڑے سیاسی یا سماجی مسئلے پر اختلاف نایاب سمجھا جاتا ہے۔
اس مہم کا بنیادی مقصد ایسے قانون سازی کے اقدامات کو روکنا ہے جو کیلیفورنیا کے امیر ترین افراد، بالخصوص سلیکن ویلی کے ارب پتیوں کو براہ راست نشانہ بناتے ہیں۔ ٹیکس کے یہ مجوزہ قوانین ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں کے لیے مالی طور پر کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انڈسٹری کے بڑے کھلاڑی اس کے خلاف متحد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، اندرونی اختلافات کی وجہ سے اس مہم کیمؤثرت پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں رہنما اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل اپناتے ہیں یا نہیں۔
اس پیش رفت نے سلیکن ویلی کے اندرونی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں ٹیک کے بڑے نام اکثر سیاسی اور معاشی مسائل پر ایک جیسا مؤقف رکھتے ہیں۔ ایرک شمٹ اور سرگئی برن کے درمیان پیدا ہونے والی یہ خلیج نہ صرف اس مخصوص ٹیکس مہم کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ مستقبل میں ان دونوں کی سیاسی اور فلاحی سرمایہ کاری پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تمام تر اختلافات کے باوجود، دونوں شخصیات کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ تنازع ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا موضوع بحث بن چکا ہے۔