Technology
ناسا کا مریخ کے لیے پہلا ایٹمی رییکٹر مشن 2028 میں روانہ ہوگا
امریکی خلائی ادارہ ناسا 2028 کے آخر میں مریخ کی طرف ایک فعال ایٹمی رییکٹر روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسپیس رییکٹر ون فریڈم کا مقصد خلا میں یورینیم کے ایٹمز کو تقسیم کر کے انجنوں کے لیے بجلی پیدا کرنا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلاء میں ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کرنے کی تیاری کر لی ہے، جس کے تحت سن 2028 کے اواخر میں مریخ کی جانب ایک فعال ایٹمی رییکٹر روانہ کیا جائے گا۔ اس اہم ترین منصوبے کا نام اسپیس رییکٹر ون فریڈم رکھا گیا ہے، جو گہرے خلاء میں یورینیم کے ایٹمز کو تقسیم کر کے اپنے انجنوں کے لیے بڑی مقدار میں بجلی پیدا کرے گا۔ ناسا کا یہ پہلا عملی تجربہ ہے جس کے ذریعے خلاء میں نیوکلیئر پاور کے حصول کو ممکن بنایا جائے گا، اور اس ٹیکنالوجی سے مستقبل میں نظام شمسی کے مختلف سیاروں پر انسانی مشنز کو توانائی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
منصوبے کی تفصیلات کے مطابق ایس آر ون فریڈم زمین کے مدار سے باہر نکلنے کے بعد اپنے 20 کلو واٹ برقی ایٹمی رییکٹر کو فعال کرے گا۔ یہ رییکٹر ہال تھرسٹر کو بجلی فراہم کرے گا اور متوقع طور پر 2029 تک مریخ کے قریب پہنچ کر تین اسکائی فال ہیلی کاپٹرز کو کامیابی کے ساتھ مریخ کی سطح پر اتارے گا۔ ماہرین کے نزدیک یہ اقدام خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ روایتی شمسی توانائی کے مقابلے میں نیوکلیئر پاور انتہائی مشکل اور طویل فاصلے کے خلائی سفر کے دوران زیادہ پائیدار اور موثر ثابت ہو گی۔
اس مشن کی کامیابی سے مستقبل کے ان تمام منصوبوں کی راہیں ہموار ہو جائیں گی جن کے تحت انسانوں کو چاند اور مریخ پر مستقل بنیادوں پر بسانے یا وہاں طویل المدتی سائنسی تحقیقی کیمپ قائم کرنے کے عزائم رکھے گئے ہیں۔ ناسا کے سائنسدانوں اور انجینئرز کی ٹیمیں اس جدید رییکٹر کی تیاری اور حفاظتی اقدامات پر بڑی محنت سے کام کر رہی ہیں تاکہ گہرے خلاء کے شدید حالات میں کسی بھی ناگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اس تاریخی مشن کی لانچنگ کے ساتھ ہی خلائی سفر کا ایک نیا باب کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔