LIVE
Loading Breaking News...

امریکی بحریہ جنگی جہاز کا نام ٹرمپ کے نام پر رکھنے پر غور

News Image
امریکی بحریہ مبینہ طور پر ایک نئے طیارہ بردار بحری جہاز کا نام سیاہ فام جنگی ہیرو ڈورس ملر کی بجائے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر رکھنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ تجویز اس سال کے اوچرم میں سامنے آئی جس پر حلقوں کی طرف سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی بحریہ کی جانب سے ایک نئے اور اہم طیارہ بردار بحری جہاز کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے خاموشی سے غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر اس جہاز کا نام پرل ہاربر کے ایک نامور سیاہ فام جنگی ہیرو ڈورس ملر کے نام پر رکھا جانا طے پایا تھا، تاہم اب ذرائع کے مطابق یہ تجویز زیر غور ہے کہ اس جہاز کا نام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر رکھا جائے۔ ڈورس ملر ایک ایسے بہادر بحری سپاہی تھے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران پرل ہاربر کے حملے میں اپنی شجاعت کے انمٹ نقوش چھوڑے تھے اور وہ اس اعزاز کو پانے والے پہلے افریقی نژاد امریکی ہیرو بننے والے تھے۔ اس جہاز کا نام یو ایس ایس ڈورس ملر رکھنے کا اعلان ماضی میں کیا گیا تھا جس کو تاریخی نوعیت کا اقدام قرار دیا گیا تھا۔ تاہم حالیہ مہینوں کے دوران اس منصوبے میں ممکنہ تبدیلی کے اشارے ملے ہیں اور انتظامیہ کے اندر مختلف سطح پر اس بات پر بات چیت کی جا رہی ہے کہ آیا اس اہم بحری جہاز کا نام ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا جائے۔ اس ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے، کیونکہ ناقاد اور حامی دونوں اس فیصلے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے فیصلے امریکی فوجی تاریخ اور سیاسی منظر نامے دونوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، اور بحریہ کی طرف سے حتمی فیصلے کا تاحال انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں ایک طرف تاریخی شخصیات کی خدمات کو سراہنے کی بات کی جا رہی ہے تو دوسری طرف موجودہ سیاسی شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کے تقاضے بھی زیر بحث ہیں۔