Technology
روبوٹکس اے آئی فرم ڈیکسمل تین ارب ڈالر ویلیو ایشن کی خواہاں
چینی روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی فرم ڈیکسمل ایک نئے فنڈنگ راؤنڈ کے ذریعے تین ارب ڈالر کی ویلیو ایشن حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بانی تنگ وینبن کے مطابق کمپنی کے یہ مذاکرات اس وقت جاری ہیں اور اس کا مقصد روبوٹس کو کنٹرول کرنے والی ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دینا ہے۔
مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا میں تیزی سے ابھرنے والی چینی فرم ڈیکسمل نے ایک نئے فنڈنگ راؤنڈ کے دوران اپنی ویلیو ایشن کو تین ارب ڈالر (20 ارب یوان) تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں سرمایہ کاروں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے جن سے کمپنی کی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔ ڈیکسمل ایسی جدید ایم باڈیڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (embodied artificial intelligence) تیار کرنے پر کام کر رہی ہے جو روبوٹس کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صنعتی اور روزمرہ کے امور میں روبوٹس کے استعمال کو مزید آسان اور کارآمد بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ کمپنی کے بانی اور سربراہ تنگ وینبن نے حالیہ انکشافات میں تصدیق کی ہے کہ سرمایہ کاری کے حصول کے لیے بات چیت کا عمل جاری ہے اور فریقین کے درمیان مثبت پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحانات میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں روبوٹکس اور اے آئی کے انضمام پر سب سے زیادہ زور دے رہی ہیں۔ ڈیکسمل کی جانب سے اس بڑی فنڈنگ کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں روبوٹس کو خودمختار بنانے والی ٹیکنالوجی کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہ فنڈنگ راؤنڈ کامیابی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچتا ہے تو اس سے نہ صرف ڈیکسمل کو اپنی تحقیق اور ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ عالمی سطح پر اس کا شمار اس شعبے کی سرکردہ کمپنیوں میں ہونے لگے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرمایہ کاری سے روبوٹکس کی صنعت میں انقلاب برپا ہو گا اور مستقبل کے سمارٹ سسٹمز کی تیاری میں تیزی آئے گی۔