Technology
زمین کے نیچے جوہری ری ایکٹر، ڈیپ فشن کا کینساس میں پائلٹ پروجیکٹ
لِز اور رِچ ملر کی جانب سے قائم کی جانے والی کمپنی ڈیپ فشن زمین کی گہرائی میں جوہری ری ایکٹر نصب کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ کینساس میں جاری اس تجرباتی منصوبے کا ہدف 2027ء کے آخر تک 5 میگاواٹ کا ری ایکٹر تیار کرنا ہے۔
سال 2023 میں لِز اور رِچ ملر نے ڈیپ فشن (Deep Fission) نامی ایک نئی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کا بنیادی مقصد کام کرنے والے جوہری ری ایکٹروں کو زمین کے اندر نصب کرنا ہے۔ یہ منفرد اور انقلابی خیال روایتی جوہری توانائی کے پلانٹس کے مقابلے میں ایک بالکل نیا اور محفوظ متبادل فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ قیام کے چند سال بعد ہی اس کمپنی نے اپنی اس ٹیکنالوجی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکی ریاست کینساس میں ایک پائلٹ پروجیکٹ پر کام شروع کر دیا ہے جس کا حتمی ہدف سال 2027 کے آخر تک ایک 5 میگاواٹ کا فعال جوہری ری ایکٹر تیار کرنا ہے۔ کینساس میں جاری یہ تجربہ کسی ایک کمپنی کی طرف سے جوہری پاور پلانٹ کو از سر نو ایجاد کرنے کی کوشش سے کہیں زیادہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ پروجیکٹ اس بات کا عملی ثبوت دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ آیا دہائیوں پرانی ری ایکٹر ٹیکنالوجی کو جدید ترین ڈرلنگ تکنیک کے ساتھ ملا کر توانائی کی پیداوار کا ایک بالکل مختلف اور موثر نظام تخلیق کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے دنیا بھر میں جوہری توانائی کے حصول کے طریقے یکسر بدل سکتے ہیں اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ ماہرین اس منصوبے کو نیوکلیئر انڈسٹری میں ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے زمین کی گہرائی میں توانائی پیدا کرنے کے محفوظ ذرائع میسر آئیں گے اور روایتی پلانٹس کے مقابلے میں لاگت اور خطرات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔ آنے والے مہینوں میں اس پائلٹ پروجیکٹ کے تحت مزید اہم پیش رفت متوقع ہے جس پر عالمی توانائی کے ماہرین کی گہری نظر ہے۔