Technology
امریکہ میں ڈیجیٹل نگرانی اور سرویلنس اسٹیٹ کا بڑھتا ہوا رجحان
جارج اورویل کے ناول 1984 کی پیشگوئیوں کے مطابق امریکہ میں بھی شہریوں کی نگرانی کا نظام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں حکومتیں عوام کی نجی زندگی میں مداخلت بڑھا رہی ہیں۔
جارج اورویل کے مشہور زمانہ ناول '1984' میں بیان کردہ 'بگ برادر' کا تصور آج کی دنیا میں حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر شہریوں کی نگرانی کے نظام میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے، اور اب یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ امریکہ بھی چین کی طرز پر ایک مکمل سرویلنس اسٹیٹ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ڈیٹا، فیشل ریکگنیشن اور مواصلاتی ذرائع پر کڑی نظر رکھنے کے باعث نجی زندگی کا تصور تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت اور آن لائن سرگرمیوں کو مسلسل ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں اس طرح کی نگرانی کو غیر جمہوری ممالک تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اب مغربی جمہوریتیں بھی سکیورٹی کے نام پر اسی راہ پر گامزن ہیں۔ سول سحر کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے بنیادی انسانی حقوق اور پرائیویسی کے تقدس کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
اس صورتحال نے ماہرینِ معاشیات، قانون دانوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ سکیورٹی اور آزادی کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔ حکومتوں کا مؤقف ہوتا ہے کہ جرائم کے انسداد اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے جدید نگرانی ناگزیر ہے، جب کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے طویل المدت اثرات جمہوریت اور انفرادی آزادی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر یہی رفتار جاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب جارج اورویل کی فکشنل دنیا ہماری روزمرہ کی حقیقت بن جائے گی۔