LIVE
Loading Breaking News...

اوبر کرایوں میں اضافے کی تحقیقات اور نئے انکشافات

News Image
اوبر کی سواریوں کے مہنگے ہونے کی وجوہات پر کی گئی ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ میں انتہائی تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ صارفین طویل عرصے سے ٹریفک اور سرج پرائسنگ کو اس کی وجہ سمجھتے رہے ہیں لیکن اب حقیقت کچھ اور نکلی ہے۔
وہ تمام افراد جو روزمرہ کی آمدورفت کے لیے اوبر جیسی رائیڈ شیئرنگ سروسز پر انحصار کرتے ہیں، اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کرایوں میں اتار چڑھاؤ اس نظام کا ایک مستقل حصہ بن چکا ہے۔ عام طور پر صارفین اس بات کے عادی ہو چکے ہیں کہ رش کے اوقات میں، ٹریفک جام کی وجہ سے یا زیادہ طلب والے علاقوں میں سفر مہقنا ہوجاتا ہے جسے عام طور پر سرج پرائسنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ تحقیقات نے ان روایتی توجیہات کو چیلنج کرتے ہوئے ایک بالکل نیا اور تشویشناک رخ سامنے لایا ہے جس نے مسافروں کو پریشان کر دیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں اور صحافیوں کی جانب سے کی جانے والی اس پڑتال میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرایوں میں غیر معمولی اور بے جا اضافے کے پیچھے صرف عام مارکیٹ کے عوامل کارفرما نہیں ہیں، بلکہ اس میں کچھ ایسے پوشیدہ رجحانات اور الگورتھمک تبدیلیاں شامل ہیں جو صارفین کی جیبوں پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، رائیڈ شیئرنگ کمپنیاں اکثر صارفین کی سابقہ تاریخ، ان کے فون کی بیٹری کی صورتحال اور مقام کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرتی ہیں، جو کہ شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے نرخوں کے طریقہ کار کی کڑی نگرانی کی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیکنالوجی نے سفری آسانیوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، لیکن اگر اس کے ذریعے صارفین کا استحصال کیا جائے گا تو اس پر شدید ردعمل سامنے آئے گا۔ اوبر کے ترجمان یا انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید تحقیقات اور ممکنہ طور پر ریگولیٹری اداروں کی مداخلت کی توقع کی جارہی ہے تا کہ کرایوں کے نظام کو زیادہ شفاف بنایا جا سکے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ایسی منصفانہ قیمت کی توقع ہے جو بلاجواز مہنگی نہ ہو اور ہر عام شہری کی پہنچ میں رہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کمپنیاں اپنے الگورتھم میں کوئی تبدیلی لاتی ہیں یا صارفین کو اسی طرح اضافی اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔