World
آسیان ممالک میں نوجوانوں کی ترقی کے لیے انڈونیشیا کا تعاون پر زور
انڈونیشیا کے وزیرِ نوجوانان و کھیل نے تیز رفتار عالمی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے آسیان ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوانوں کی ترقی کے امور پر باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ یہ بات انہوں نے خطے کے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اور روزگار کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے کہی۔
جکارتا (انٹارا) - انڈونیشیا کے وزیرِ نوجوانان و کھیل نے آسیان (ASEAN) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں، خصوصاً ٹیکنالوجی، روزگار اور سماجی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں نوجوانوں کی ترقی کے چیلنجز سے مشترکہ طور پر نبردآزما ہوں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ خطے کے نوجوانوں کو درپیش مسائل کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہیں بلکہ پورے خطے کو ان کا سامنا ہے۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی کے غلبے اور ڈیجیٹل تبدیلیوں کی وجہ سے روایتی نوکریوں کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے۔ وزیرِ موصوف کا کہنا تھا کہ اگر آسیان ممالک نے مل کر لائحہ عمل تیار نہ کیا تو خطے کا نوجوان طبقہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں اکیلا رہ جائے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی نصاب، پیشہ ورانہ تربیت اور مہارتوں کے تبادلے کے پروگراموں میں علاقائی تعاون کو مزید موثر بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں نوجوانوں کی آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے، جو کہ ایک بہت بڑا معاشی اثاثہ بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔ اگر اس افرادی قوت کو مناسب سمت فراہم کی جائے تو آسیان کے تمام ممالک معاشی اور سماجی ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومتوں کو پالیسی کی سطح پر ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
آخر میں، انڈونیشیائی وزیر نے تمام رکن ممالک کے نمائندگان کو دعوت دی کہ وہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ڈیجیٹل لٹریسی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں۔ اس اقدام سے نہ صرف خطے میں باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوان نسل کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل بھی فراہم کیا جا سکے گا۔