LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا کا امریکہ کے پچاس فیصد ٹیرف پر ڈالر بہ ڈالر جواب کا اعلان

News Image
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے کینیڈین مصنوعات پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کر دیے۔ اس اقدام کے ردعمل میں کینیڈا نے بھی امریکی تجارتی پابندیوں کا ڈالر کے مقابلے میں ڈالر سے جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی محاذ آرائی اس وقت شدید ترین شکل اختیار کر گئی جب دونوں ممالک کے درمیان جاری اہم تجارتی مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ اس ناکامی کے فورا بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کینیڈین درآمدات پر پچاس فیصد کے بھاری بھرکم ٹیرف عائد کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ اس اچانک اور سخت ترین معاشی فیصلے نے شمالی امریکہ کے دو قریبی اتحادیوں کے مابین تعلقات کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکی اعلان کے جواب میں کینیڈین حکومت کی طرف سے انتہائی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ کینیڈین حکام اور وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ کینیڈا اس یکطرفہ امریکی اقدام کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا۔ کینیڈا نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ امریکی مصنوعات پر بالکل اسی طرح کے ٹیکس اور ڈیوٹیز عائد کرے گا، اور اس کا جواب ڈالر کے مقابلے میں ڈالر سے دیا جائے گا۔ اس معاشی جوابی کارروائی کا مقصد کینیڈین صنعتوں اور تجارت کا دفاع کرنا ہے تاکہ امریکی دباؤ کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ کا یہ نیا باب نہ صرف دونوں معیشتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس سے عام صارفین کے لیے بھی اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ دونوں طرف سے عائد کردہ یہ بھاری ٹیرف سپلائی چین کو شدید متاثر کریں گے اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ سفارتی حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر اس تنازع کو جلد مذاکرات کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑی تجارتی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔