World
اسرائیل کی شام میں نئی فوجی کارروائی، عالمی ردعمل
اسرائیل نے امریکی تحفظات اور تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے شام کے مختلف علاقوں کو دوبارہ فضائی کارروائی کا نشانہ بنایا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یہ کارروائی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہے۔
اسرائیل نے ایک بار پھر شام کی حدود میں فضائی کارروائی کی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کی ایک نئی لہر پیدا ہو گئی ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی ان فوجی حکمت عملیوں پر کھل کر تنقید کی جا رہی تھی۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل فضائی حملے نہ صرف شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تاحال ان حملوں میں ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں تاہم شامی حکام نے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے حالیہ دنوں میں اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ شام میں ایسی کارروائیوں سے گریز کرے جو خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ ان حملوں سے علاقائی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ تاہم، تل ابیب نے ان تمام تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف اپنے سکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے ہیں اور وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر اپنی دفاعی پالیسی پر عمل جاری رکھے گا۔
اس صورتحال نے خطے کے دیگر ممالک میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جو پہلے ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی چپقلش کے اثرات کا شکار ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل کا یہ اقدام امریکی پالیسی اور مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اس کے اثر و رسوخ کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔
آئندہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکہ اپنے اتحادی ملک اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالتا ہے یا پھر اسرائیل اپنے ان عسکری اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اپنی مہم جاری رکھے گا۔ اس کشمکش کے باعث شام کے پہلے سے متاثرہ عوام ایک بار پھر شدید خوف و ہراس کی فضا میں مبتلا ہیں، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے مذمت اور تشویش کا اظہار مسلسل جاری ہے۔