LIVE
Loading Breaking News...

امریکی پابندیوں پر ایران کا سخت ردعمل

News Image
ایران نے امریکا کی جانب سے نئی پابندیاں عائد کرنے کے ارادے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے غیر تعمیری عمل قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور سفارتی مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچے گا۔
تہران کی جانب سے ایک حالیہ بیان میں امریکا کے اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی ہے جس کے تحت واشنگٹن ایران پر مزید نئی پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ امریکا کا یہ رویہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے بلکہ یہ خطے میں موجودہ کشیدگی کو مزید ہوا دینے کا باعث بنے گا۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسی پابندیاں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہیں بلکہ یہ دو طرفہ سفارتی تعلقات میں موجود رکاوٹوں کو مزید بڑھانے کا سبب بنیں گی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کا یہ غیر تعمیری عمل اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ براہ راست بات چیت کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر گامزن رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر سمجھوتہ کیے بغیر اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔ عالمی برادری کے حلقوں میں اس پیشرفت پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے جوہری معاہدے اور دیگر علاقائی معاملات کے حوالے سے پہلے سے موجود پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے حالات پہلے ہی کافی حد تک غیر مستحکم ہیں۔ پابندیوں کے نفاذ سے ایرانی معیشت پر براہ راست اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، تاہم تہران نے اس سے قبل بھی ایسی پابندیوں کا سامنا کیا ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان کے اثرات کو کم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ عالمی طاقتوں کی جانب سے اب تک اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے جس میں کچھ ممالک نے مذاکرات پر زور دیا ہے تو کچھ نے امریکا کے اس یکطرفہ فیصلے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔