Entertainment
گھوسٹ بسٹرز کے اصل جمپ سوٹ کی کہانی اور ان دیکھی تصویر
مشہور فلم گھوسٹ بسٹرز کے اداکار ڈین ایکرائڈ نے فلم کے اصل ملبوسات کی ایک نایاب تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فلم کے ابتدائی مراحل میں ایک بڑی غلطی ہونے والی تھی جسے وقت پر درست کر لیا گیا۔
ہالی وڈ کی کلاسک اور بلاک بسٹر فلم 'گھوسٹ بسٹرز' (Ghostbusters) کے پرستاروں کے لیے ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔ فلم کے مرکزی اداکار اور مصنف ڈین ایکرائڈ نے حال ہی میں 1984 میں ریلیز ہونے والی اس تاریخی فلم کے اصل جمپ سوٹ کی ایک نایاب اور تاریخی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔ یہ جمپ سوٹ فلم کی شناخت کا ایک اہم حصہ بن گیا تھا اور اس وقت کے بچوں کے لیے کسی فائر فائٹر یا پولیس اہلکار کی وردی سے کم اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ بیج رنگ کا یہ جمپ سوٹ، ایک خود ساختہ پروٹون پیک اور سینے پر لگا نام کا پیچ، ان کرداروں کی پہچان بن چکے تھے جو ایک فرضی فائر ہاؤس میں گھوسٹ بسٹرز کی خدمات سرانجام دیتے تھے۔
ڈین ایکرائڈ نے اس تصویر کے ساتھ فلم کی تیاری کے دوران پیش آنے والے ایک دلچسپ واقعے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فلم کے ابتدائی تخلیقی مراحل میں پروڈکشن ٹیم ایک ایسی غلطی کرنے کے قریب تھی جو فلم کے کرداروں کے حلیے کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتی تھی۔ اگرچہ انہوں نے اس مخصوص غلطی کی تفصیلات نہیں بتائیں، لیکن انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ فلم کے بصری تاثر کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی، تاہم وقت رہتے اس فیصلے کو تبدیل کر لیا گیا جس کے نتیجے میں وہی کلاسک لک سامنے آئی جسے آج دنیا بھر میں لوگ جانتے ہیں۔
یہ تصویر نہ صرف فلم کے چاہنے والوں کے لیے ایک پرانی یادیں تازہ کرنے والا لمحہ ہے بلکہ یہ فلم سازی کے پس پردہ جدوجہد کی بھی عکاس ہے۔ ڈین ایکرائڈ کا کہنا ہے کہ گھوسٹ بسٹرز کا یہ جمپ سوٹ محض ایک لباس نہیں تھا بلکہ یہ اس ٹیم کا یونیفارم تھا جس نے سائنس فکشن اور کامیڈی کے امتزاج سے سینما کی تاریخ بدل دی۔ آج چار دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی، اس جمپ سوٹ کی مقبولیت برقرار ہے اور لوگ آج بھی اسے پہن کر فلم کے کرداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
اس انکشاف نے سوشل میڈیا پر فلمی ناقدین اور مداحوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آخر وہ کون سی غلطی تھی جس سے فلم کو بچایا گیا۔ تاہم، ڈین ایکرائڈ کی جانب سے شیئر کی گئی اس تصویر نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ گھوسٹ بسٹرز کا جادو آج بھی برقرار ہے اور اس فلم کی ہر چھوٹی بڑی تفصیل کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی چھپی ہوئی ہے۔