LIVE
Loading Breaking News...

البرٹا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے خلاف عوامی احتجاج

News Image
البرٹا کے وزیر ٹیکنالوجی نیٹ گلوبش کو مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے حوالے سے عوامی غصے اور سوالات کا سامنا ہے۔ شہریوں نے ماحولیاتی اور وسائل کے ضیاع پر حکومت کے منصوبے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کینیڈا کے صوبے البرٹا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے حکومتی منصوبے پر عوامی بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں منعقد ہونے والی دوسری ٹاؤن ہال میٹنگ کے دوران صوبائی وزیر ٹیکنالوجی نیٹ گلوبش کو عوام کی جانب سے شدید تنقید اور تلخ سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ اجلاس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مقامی باشندوں کو اس بڑے تکنیکی منصوبے کے ماحولیاتی اثرات اور وسائل کی کھپت پر شدید تحفظات ہیں۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار بھاری بجلی اور پانی کی فراہمی مقامی آبادی کے معیار زندگی اور ماحول کو متاثر کر سکتی ہے۔ میٹنگ کے دوران وزیر ٹیکنالوجی نیٹ گلوبش نے حکومتی مؤقف کا دفاع کرنے کی کوشش کی، تاہم شرکاء نے حکومت سے شفافیت کا مطالبہ کیا۔ شہریوں نے نشاندہی کی کہ اتنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز کا قیام بجلی کے گرڈ پر اضافی بوجھ ڈالے گا، جس سے عام صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیٹا سینٹرز سے خارج ہونے والی حرارت اور پانی کے استعمال کے حوالے سے بھی ماہرین اور مقامی کمیونٹی نے حکومت سے ٹھوس شواہد اور ماحولیاتی اثرات کی رپورٹیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اب تک دی جانے والی یقین دہانیاں شہریوں کو مطمئن کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ البرٹا کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئی بلندی پر لے جانے کے لیے ضروری ہے اور اس سے ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ تاہم، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاشی فوائد کے نام پر ماحولیاتی تحفظات کو پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ ٹاؤن ہال میں موجود کئی افراد نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس منصوبے کو آگے بڑھانے سے قبل عوامی رائے کا احترام کرنا چاہیے اور کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل مزید مشاورت کرنی چاہیے۔ البرٹا حکومت اب ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے معاشی ترقی اور عوامی مطالبات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ اس صورتحال نے ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری صرف تکنیکی اور معاشی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ اس کے سماجی اور ماحولیاتی پہلو بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ آنے والے دنوں میں حکومت کو ممکنہ طور پر مزید عوامی سماعتوں کا اہتمام کرنا پڑے گا تاکہ اس تنازع کو حل کیا جا سکے۔ اگر حکومت نے عوام کے تحفظات کو دور نہ کیا تو اس منصوبے پر عمل درآمد میں قانونی اور عوامی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں، جو صوبے کے تکنیکی خواب کو متاثر کر سکتی ہیں۔