LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ: ٹیرف میں اضافے پر کشیدگی میں اضافہ

News Image
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے کینیڈا کی درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیے ہیں۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ہر ڈالر کے بدلے ڈالر کا انتقامی ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی حکومت نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر 50 فیصد بھاری ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے شمالی امریکہ کی تجارتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام ہو گئے اور بات چیت کا عمل مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو گیا۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے طویل مدتی منفی اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا اپنی معیشت کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ کینیڈا اس یکطرفہ امریکی فیصلے کو خاموشی سے قبول نہیں کرے گا اور جواب میں امریکی درآمدات پر ڈالر کے بدلے ڈالر کے حساب سے انتقامی ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ وزیراعظم کا بیان کینیڈا کے سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد امریکہ کو یہ پیغام دینا ہے کہ کینیڈا اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس جوابی حکمت عملی نے تجارتی جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس تجارتی کشیدگی کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر سپلائی چین اور اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف تجارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے سے صارفین پر بوجھ بڑھے گا اور صنعتوں کو خام مال کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی مالیاتی ادارے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ سفارتی سطح پر کوئی راستہ نکلے گا تاکہ اس بڑھتے ہوئے تجارتی تنازع کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے، بصورت دیگر یہ تنازعہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔