Pakistan
عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی: چیف کمشنر اسلام آباد کی سپریم کورٹ سے جلد سماعت کی استدعا
اسلام آباد کے چیف کمشنر نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر نظر ثانی کی درخواست پر جلد سماعت کی جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ حکم ملکی قوانین اور مساوات کے اصولوں کے منافی ہے۔
اسلام آباد کے چیف کمشنر نے ہفتے کے روز سپریم کورٹ میں ایک اہم درخواست دائر کی ہے جس میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے 18 اگست کے عدالتی حکم کے خلاف دائر نظر ثانی کی اپیل پر جلد سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔ چیف کمشنر کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 18 اگست کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں بانی پی ٹی آئی کو دو دن کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا جو حکم جاری کیا تھا، وہ حکومتی انتظامی اختیارات پر اثر انداز ہوا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے حکومت کی جانب سے دائر کی گئی نظر ثانی اپیل کو کچھ تکنیکی اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا تھا، جنہیں اب دور کر کے دوبارہ جمع کرایا گیا ہے۔
نظر ثانی کی درخواست میں حکومت کی جانب سے یہ استدلال پیش کیا گیا ہے کہ عدالت کا فیصلہ امتیازی نوعیت کا حامل ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی کرتا ہے جو قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ کسی قیدی کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم جیل کے موجودہ قوانین اور ضوابط کے منافی ہے، اور اگر اس فیصلے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو یہ ایک ایسا راستہ کھول دے گا جس سے جیل کے مجموعی نظم و نسق کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ جیل کے قیدیوں کے معاملات کو قانون کے تحت سختی سے ریگولیٹ کیا جاتا ہے تاکہ بیرونی مداخلت سے بچا جا سکے اور نجی ہسپتال کی سہولت فراہم کرنا اس قانونی فریم ورک کے خلاف ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت کسی قیدی کے علاج کے لیے صرف سرکاری ہسپتال یا جیل ہسپتال کا تصور موجود ہے، اور نجی ہسپتال منتقلی کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ عدالتِ عالیہ کے پاس موجود اختیارات ضابطہ فوجداری کے تحت محدود ہیں، اور کسی بھی قیدی کو نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت دینے کے لیے کوئی قانونی شق موجود نہیں ہے۔ لہذا، حکومت نے استدعا کی ہے کہ 18 اگست کے حکم کو واپس لیا جائے تاکہ جیل انتظامیہ کے معاملات میں پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ چیف کمشنر نے زور دیا ہے کہ اس معاملے کی اہمیت کے پیش نظر اس پر جلد سماعت کرنا ناگزیر ہے تاکہ انصاف کے تقاضوں اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔